اسلام آباد میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر کے حوالے سے بیان دیا۔
علیمہ خان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی رقوم ان کی ذاتی ملکیت ہیں اور اگر وہ چاہیں تو وہ یہ رقوم پاکستان نہ بھیجیں، تاہم ان کے رشتہ داروں کو ان رقوم کے حوالے سے پریشان کیا جا رہا ہے، جیسا کہ ان کے گھروں میں فون کالز کی جا رہی ہیں۔علیمہ خان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سے صرف یہ کہا ہے کہ اگر وہ اپنی ترسیلات زر نہیں بھیجنا چاہتے تو ان کا یہ حق ہے۔ تاہم، عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت پی ٹی آئی کے دو مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی، تو وہ ترسیلات زر روکنے کی کال واپس لے لیں گے۔ ان مطالبات میں سپریم کورٹ کے تین سینیئر ججز سے نومئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی غیر قانونی قید سے فوری رہائی شامل ہیں۔علیمہ خان نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے ملٹری ٹرائل میں سزائیں پانے والوں کی رہائی کی بات کی ہے اور ان کے مطابق اگر حکومت چاہتی ہے کہ ان افراد کا ٹرائل کیا جائے تو وہ کھلی عدالت میں ہو۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہاؤس اریسٹ کی بجائے جیل میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے مقدمات کا سامنا کر سکیں اور خود کو بے گناہ ثابت کر سکیں۔علیمہ خان نے افغانستان میں بمباری پر بھی عمران خان کے دکھ کا ذکر کیا اور کہا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اس کا اثر پاکستانی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کے لیے امن، سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی ضروری ہیں، اور اگر ہمارے بارڈر پر امن نہیں ہوگا تو کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری ممکن نہیں ہو سکے گی۔علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے سیاسی انجینئرنگ کے بجائے پاکستان کے بارڈرز کی حفاظت پر زور دیا ہے، کیونکہ اس سے ملکی معیشت کی استحکام اور ترقی ممکن ہوگی۔