موزمبیق : متنازع انتخابات کے بعد پرتشدد واقعات پھوٹ پڑے، 21افراد ہلاک

مظاہرین کی دکانوں، بینکوں، سرکاری عمارتوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار، تھانوں، حراستی مراکز پر بھی حملے کیے ،70افراد کو گرفتار کر لیا گیا  
  ماپوتو(آئی  این پی) جنوبی افریقی ملک موزمبیق میں متنازع انتخابات کے بعد پرتشدد واقعات میں کم از کم 21افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 70افراد کو گرفتار کر لیا گیا ۔موزمبیق کی سب سے بڑی عدالت کی جانب سے اکتوبر میں ہونے والے متنازع انتخابات میں حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ڈینیل چاپو کو فاتح قرار دیا جس کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔غیر ملکی خبر رساںادارے کے مطابق موزمبیق کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں پرتشدد واقعات میں 2پولیس افسران سمیت 21افراد ہلاک ہوئے جبکہ پرتشدد واقعات میں ملوث 70افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مظاہرین کی جانب سے دکانوں، بینکوں اور سرکاری عمارتوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار بھی کی گئی۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ مسلح افراد نے تھانوں، حراستی مراکز پر بھی حملے کیے۔دوسری جانب جلاوطن اپوزیشن رہنما وینانسیو مونڈلین کا کہنا ہے کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی۔دوسرے نمبر پر آنے والے وینانسیو مونڈلین اکتوبر میں ہونے والے انتخابات کے بعد سے ہی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگا کر مظاہروں کی کال دے رہے ہیں اور اپنے دو ساتھیوں کی ہلاکت اور پولیس کی جانب سے دھمکی آمیز رویے کے بعد وہ ملک سے چلے گئے تھے۔