بنگلا دیش ، قبائلی لڑکی سے گینگ ریپ، ہنگامے پھوٹ پڑے، 3 ہلاک

فسادات کا آغاز اس وقت ہوا جب آٹھویں کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی ہوئی
پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر، جھڑپوں میں13 فوجی، 3 پولیس اہلکار زخمی ہوئے
ڈھاکہ (آئی این پی )بنگلا دیش کی چٹانگ ڈویژن میں قبائلی لڑکی کے گینگ ریپ کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے، فسادات اور آبادیوں پر حملے سے 3 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جس کے بعد فوج نے کرفیو نافذ کردیا  جبکہ  بنگلا دیشی  وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ انڈیا کے ساتھ جنوب مشرقی سرحدی علاقے میں غیرملکی ہتھیار تشدد کو ہوا دے رہے ہیں ۔بھارتی میڈیارپورٹسکے مطابق پولیس حکام نے 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق جھڑپوں میں چکما اور مارما قبائل کے افراد اور بنگالی آبادکار ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئے، متعدد گھروں، دکانوں اور کاروباری مراکز کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔فسادات کا آغاز اس وقت ہوا جب گزشتہ ہفتے آٹھویں جماعت کی ایک قبائلی طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا، جس نے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔وزارت داخلہ کے مطابق جھڑپوں میں 13 فوجی اہلکار اور 3 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے  سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے