تحریک انصاف میں اختلافات آج پارٹی عہدہ چھوڑ دوں گا :سلمان اکرم راجہ
بانی پی ٹی آئی کو علی بخاری کے ذریعے پیغام پہنچایا تھا، میری بھیجی گزارش تسلیم نہیں کی ،آج عمران خان سے گزارش کر کے عہدہ چھوڑ دونگا، وکالتی خدمات حاضر رہیں گی، بیان، بانی سے ملاقات کے بعد استعفٰی واپسی کا امکان
اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) مختلف رہنمائوں کوسزا کے بعد کو اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ایکس پر اپنے پیغام میں سلمان اکرم نے کہا کہ آج ایک ایسا واقعہ ہوا ہے جو اب مجھ سے دو ٹوک فیصلے کا تقاضا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میری زندگی کھلی کتاب ہے۔ میرا کوئی عمل کسی اصول سے متصادم نہیں، فکری و معاشی دیانت پر سمجھوتہ مجھے قبول نہیں۔سلمان اکرم نے کہا کہ گزشتہ منگل بانی پی ٹی آئی کو علی بخاری کے ذریعے پیغام پہنچایا تھا، بانی نے میری بھیجی گزارش تسلیم نہ کی۔ آج منگل کو میں عمران خان سے گزارش کر کے عہدے سے علیحدہ ہو جائوں گا، میری وکالتی خدمات بلامعاوضہ حاضر رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ میں کوئی روایتی سیاست دان نہیں، نہ جاگیردار، نہ مل اونر، تاہم میرا مختصر خاندان میرے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پارٹی کے اندر اور باہر سے ہر قسم کے رقیق حملوں کو سہا ہے، کوئی ملال نہیں، اپنی بھرپور وکالت کو پس پشت ڈال کر معاشی بے یقینی کو بخوشی قبول کیا۔سلمان اکرم نے کہا کہ مجھے بیس جھوٹے دہشتگردی کے مقدمات میں ملوث کیا گیا، جیل سے نہیں ڈرتا، اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا، پارٹی کے اندر اور باہر ہر قسم کے حملے برداشت کیے اور ڈٹ کر کھڑا رہا، آئندہ بھی بانی کے ساتھ کھڑا رہوں گا اور اپنی وکالتی خدمات بلامعاوضہ جاری رکھوں گا۔تحریکِ انصاف اس وقت شدید اندرونی بحران کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ پالیسی سازی میں کنفیوڑن اور فیصلہ سازی کا غیر واضح عمل ہے۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے استعفے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے استعفے کی فوری وجہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے پر پارٹی کے اندر اختلافِ رائے اور علیمہ خان سے پیدا ہونے والے تناؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔علیمہ خان نے اپنے بیٹوں کی گرفتاری کے بعد پارٹی کی خاموشی پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ اْن کا گلہ تھا کہ نہ گرفتاری کے وقت اور نہ ہی عدالت میں پیشی کے دوران پارٹی کا کوئی ذمہ دار موجود تھا۔ انہوں نے اس رویے پر قیادت سے شکایت کی اور کچھ ذمہ داران کو اس صورتحال کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔دوسری طرف، ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے پارٹی کے اندر واضح تقسیم موجود تھی۔ اکثریت انتخاب لڑنے کی حامی تھی، جبکہ علیمہ خان کا مؤقف تھا کہ بانی تحریکِ انصاف کے مطابق ان انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ سلمان اکرم راجہ اس حوالے سے دباؤ میں نظر آئے۔ اس پر علیمہ خان نے ووٹنگ کے عمل کو ہی چیلنج کر دیا اور کہا کہ یہ بانی کی ہدایات پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔یوں پارٹی ڈسپلن متزلزل ہوتا نظر آیا اور پارٹی کے مختلف حلقوں سے مختلف بیانیے سامنے آ رہے تھے، جس سے سلمان اکرم راجہ کنفیوڑن کا شکار ہو گئے۔ یاد رہے کہ وہ اس سے قبل بھی استعفیٰ دے چکے تھے، مگر بانی نے اسے مسترد کر کے کام جاری رکھنے کو کہا تھا۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سلمان اکرم راجہ کی بانی تحریکِ انصاف سے ملاقات ہو جاتی ہے، تو ان کے استعفے کے مسترد کیے جانے کا امکان موجود ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا، تو امکان ہے کہ وہ سیاست سے دستبردار ہو کر دوبارہ قانونی میدان میں متحرک ہو جائیں گے، جسے ان کا اصل میدان سمجھا جاتا ہے۔جہاں تک تحریک انصاف کی مجموعی کیفیت کا تعلق ہے، تو ہر سطح پر شدید کنفیوڑن ہے۔ فیصلہ سازی کا بحران ہے، اور کسی کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ پارٹی کی اصل پالیسی کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ 9 مئی کے واقعات اور ان کے نتیجے میں ملنے والی سزائیں ہیں۔ سزا یافتہ افراد کی نااہلی نے پارٹی میں مزید مایوسی پیدا کی ہے۔ مسلسل احتجاج کی پالیسی بھی پارٹی کی تنظیمی اور سیاسی طاقت کو کمزور کر رہی ہے۔ نہ احتجاج مؤثر ہو رہا ہے، اور نہ ہی حکومت پر دباؤ بڑھ پا رہا ہے۔ اس پالیسی نے پارٹی کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔سلمان اکرم راجہ کے استعفے کے بعد پارٹی میں مزید چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ ہر نیا دن ایک نئی صورتحال کو جنم دے رہا ہے، جو پارٹی کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر اڈیالہ جیل سے واضح مؤقف اور پالیسی سامنے نہیں آتی، تو بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔پارٹی میں پیدا شدہ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ قیادت اور ذمہ داران کے درمیان رابطے کا فقدان اور بروقت رہنمائی کا نہ ملنا ہے۔ جو لوگ جیل سے ملاقات کر کے آتے ہیں، وہ بھی بانی کے حوالے سے متضاد بیانات دیتے ہیں، جس سے پارٹی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں پارٹیوں پر بحران آتے ہیں، لیکن اگر قیادت مضبوط ہو اور کارکن پیچھے نہ ہٹیں، تو ریلیف ملنے کی صورت میں پارٹی دوبارہ اٹھ سکتی ہے۔ یہ سب کچھ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا، مگر فی الحال سلمان اکرم راجہ کا سیاسی مستقبل ان کی بانی سے ملاقات پر منحصر ہے۔ اگر ملاقات ہو جاتی ہے، تو ان کا استعفیٰ واپس لیا جا سکتا ہے، اور وہ پارٹی میں اپنا کردار جاری رکھ سکتے ہیں۔تاہم ان کی پسپائی سے پارٹی کے اندر وکلاء کے کردار اور مستقبل پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں، کیونکہ موجودہ حالات میں وکلاء کا کردار پارٹی کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔