گندم 300 روپے فی من مہنگی

گندم 300 روپے فی من مہنگی

ملک میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ متوقع ہے، جس سے عام صارفین پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق گندم کی فی من قیمت 300 روپے بڑھا دی گئی ہے۔ نئی قیمت 2 ہزار 8 سو روپے سے بڑھ کر 3 ہزار ایک سو روپے فی من مقرر ہوگئی ہے۔ اس اضافے کے بعد آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن عاصم رضا نے کہا ہے کہ حکومت گندم کی قیمت پر قابو پانے میں ناکام ہو گئی ہے، جبکہ پنجاب حکومت نے اسے ڈی ریگولیٹ کر رکھا ہے جس کے باعث مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمت بھی بڑھ سکتی ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن اس وقت گندم کی قیمت میں اضافے کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور اس کے اثرات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

نتیجہ
گندم کی بڑھتی قیمت نہ صرف آٹے بلکہ دیگر غذائی اشیاء کی قیمتوں کو بھی متاثر کرے گی، جس سے عوامی سطح پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔