سیاسی طور پر سب ایک پیج پر ہیں، قرار داد کی تیاری میں تعاون پر اپوزیشن لیڈر کے شکر گزار ہیں‘، کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو جواب ماضی جیسا دیا جائیگا:نائب وزیراعظم

سینیٹ میں بھارت کیخلاف قرارداد منظور مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا:اسحاق ڈار

پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے،  کسی بھی جارحیت  کا منہ توڑجواب دیا جائے گا، بھارت کے تمام الزامات مسترد کرتے ہیں‘بھارت کو دہشت گردی پر قابل احتساب بنایا جائے:قرارداد کا متن
ملک کی مضبوطی کیلئے عمران خان کو رہا کیا جائے،: شبلی فراز‘جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،بھارت نے شرمناک حرکت کی : ایمل ولی خان‘پہلگام کا واقعہ بھارتی سکیورٹی کی  ناکامی ہے: شیری رحمان‘ایوان میں اظہار خیال

 اسلام آباد (آئی این پی )سینیٹ میں پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی اقدامات کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظورکر لی گئی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے  پاکستان پہلگام واقعے سمیت دہشتگردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے، پاکستان کو پہلگام واقعے سے جوڑنے کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان پر کسی حملے کی صورت میں منہ توڑ جواب دیا جائے گا، بھارت کو پاکستان سمیت دیگر ممالک میں دہشت گردی پر قابل احتساب بنایا جائے۔  بھارت کے تمام الزامات مسترد کرتے ہیں۔  چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس کی معمول کی کارروائی معطل کی گئی۔  نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے قرارداد پیش کرتے ہوئے اظہار خیال میں کہا کہ کسی نے بھی پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھا تو وہ جان لے کہ ہم پوری طرح تیار ہیں، قومی سلامتی نے کہا پانی بند کرنا جنگ کے مترادف ہوگا۔   اسحاق ڈار نے  کہا کہ 22 اپریل کو پہلگام کا واقعہ ہوتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے دورے پر تھے، قوم نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے، پہلگام واقعے پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا افسوسناک ہے، پہلگام میں سیاحوں کی ہلاک پر ہمیں تشویش ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو یکسرمسترد کرتے ہیں، سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑعوام کی لائف لائن ہے، واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔کسی نے بھی پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھا تو وہ جان لے کہ ہم پوری طرح تیار ہیں۔اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بہتر ہوگا کہ پاکستان کے خلاف مہم جوئی کی غلطی نہ دہرائی جائے، اگر بھارت پیچھے نہ ہٹا تو ہم دوسرے طرفہ معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے پرغور کریں گے، ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہاہے کبھارت کی جانب سے کسی بھی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس موقع پر پوری اور سیاسی جماعتیں متفق ہیں انہوں نے کہاکہ ملک کی مضبوطی کیلئے بانی پی ٹی آئی کو رہا کیا جائے اور پی ٹی آئی کے اسیر کارکنوں سمیت بانی پی ٹی آئی کو رہا کیا جائے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام آسکے‘اے این پی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان نے پاکستان اور بھارت کے مابین مسائل کے حل اور مذاکرات کیلئے اپنے آپ کو پیش کرنے کا اعلان کردیا انہوں نے کہاکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی جارحیٹ کی مذمت کرتا ہوں  سینیٹر ایمل ولی خان نے کہاکہ انڈیا نے شرم ناک حرکت کی ہے ہم اس پورے ڈرامے کی مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہاک ہندوستان میں اس عمل کے بعد مودی کو انگریزی میں تقریر کیوں کرنا پڑی وہ ان کو سنانا چاہتا تھا جو انگریزی سمجھتے ہیں انہوں نے کہاکہ پاکستان کا ہرشہری واضح کہتا ہے کہ پاکستان کی سالمیت پر کسی کو سوال نہیں اٹھانے دیں گے‘پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے پہلگام حملے کی  مذمت کرتے ہوئے کہا ہے  اس واقعے کی ذمہ داری بھارت کی اپنی سکیورٹی ناکامی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی ثبوت کے پانچ منٹ میں پاکستان پر الزام تراشنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔سی آج ہم نے متحد ہو کر ایک متفقہ قرارداد پاس کی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف یک زبان ہے، ہم نے بھارت کو بھرپور جواب دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، مقبوضہ کشمیر میں جو مظالم جاری ہیں وہ مودی حکومت کی پالیسیوں اور بھارتی جمہوریت کی حقیقی تصویر ہے۔