امریکا، ایران مذاکرات: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں معمولی کم

امریکا، ایران مذاکرات: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں معمولی کم

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے امکانات اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات کی اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات کو ممکنہ حملوں کے خدشات کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

جمعہ کو برینٹ خام تیل کی قیمت 87 سینٹ یعنی 0.82 فیصد کمی کے بعد 105.73 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 1.56 ڈالر یعنی 1.65 فیصد کمی کے بعد 93.05 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔تیل کی قیمتوں میں کمی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب گزشتہ روز دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ برینٹ کی قیمت میں 3.4 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا تھا۔دوسری جانب برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے درمیان قیمت کا فرق بھی مئی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جو 12.68 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق نیویارک میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار پیش رفت پر بات چیت کر رہے ہیں۔ مجوزہ پیش رفت میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنا جبکہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی شامل ہوسکتی ہے۔

جنگ کے آغاز کے بعد عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں قیمتوں اور سپلائی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ادھر سعودی عرب نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق میزائل حملوں میں جنوبی صوبے طائف اور بحیرہ احمر کے قریب واقع ینبع کے علاقے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ماہرین کے مطابق سعودی عرب میں توانائی کے اہم اثاثوں کو لاحق ممکنہ خطرات عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی برقرار رہنے کی ایک اہم وجہ ہیں۔دریں اثنا سعودی عرب نے خام تیل کی پمپنگ میں اضافہ شروع کردیا ہے، تاہم بحیرہ احمر میں واقع ینبع کے برآمدی مرکز سے خام تیل کی ٹینکر لوڈنگ تاحال بحال نہیں ہوسکی۔