وفاق اگر پولیس کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کریگا تو صوبائی حکومت اقدامات کرے گی،پولیس کا دھیان دہشت گردی سے ہٹاکر سیاسی جماعت کی طرف نہیں کرنے دینگے
ہم مسلح جدوجہد یا یلغار کرنے نہیں جا رہے، پرامن احتجاج کرنے جا رہے ہیں،جب تک آئین میں رائٹ ٹو اسمبلی موجود ہے ہم احتجاج کریں گے:اجلاس سے خطاب
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے وفاق اگر پولیس کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کریگا تو صوبائی حکومت اقدامات تو کرے گی، دہشت گردی کی جنگ سے پولیس کا دھیان ہٹا کر کسی سیاسی جماعت کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، پولیس کو انکار کرنا سیکھنا ہوگا۔صوبے میں امن و امان کے حوالے سے اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ 22 سال سے خیبرپختونخوا پولیس اور عوام مسلسل دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں،، دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے پی ٹی آئی کو ختم کرنا اور عمران خان کو جھکانا ترجیح بن گیا ہے، 15 اکتوبر 2025ء کو حلف اٹھانے کے بعد کسی پولیس افسر کو کوئی غلط حکم نہیں دیا، کسی پولیس افسر کو سیاسی یا ذاتی انتقام کا نشانہ بنانے اور غلط ایف آئی آر کا حکم نہیں دیا، جب میں بطور چیف ایگزیکٹو پولیس کو غلط احکامات نہیں دیتا تو کسی اور کو بھی غلط احکامات دینے کا حق نہیں، کسی پولیس افسر کا فرض نہیں کہ وہ کسی کا غلط حکم مانے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا مفاد کسی سیاسی جماعت کو ختم کرنا نہیں، ہماری ترجیح دہشت گردی سے نمٹنا ہے، ہم کوئی مسلح جدوجہد یا یلغار کرنے نہیں جا رہے، ہم پْرامن احتجاج کرنے جا رہے ہیں، پْرامن احتجاج روکنے کا حکم دینے والوں سے کہیں کہ آئین سے رائٹ ٹو اسمبلی کی شق نکال دیں، جب تک آئین میں رائٹ ٹو اسمبلی موجود ہے ہم احتجاج کریں گے۔