لاہور(نیٹ نیوز) ہائی بلڈ پریشر آج کل ایک عام مرض بن چکا ہے جس کی متعدد وجوہات سامنے آتی ہیں، جن میں خراب طرزِ زندگی اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی نمایاں ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق، عام طور پر نیند کے دوران بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے، لیکن صبح بیداری کے بعد جسم میں ہارمونز کا اخراج بلڈ پریشر کو بڑھا دیتا ہے۔اگر یہ اضافہ حد سے زیادہ ہو جائے تو اسے مارننگ ہائی بلڈ پریشر کہا جاتا ہے، جو دل کے امراض اور فالج کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کی کئی دوائیں قلیل المدتی اثر رکھتی ہیں اور ان کی تاثیر رات کے وقت کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں صبح کے وقت بلڈ پریشر قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق صبح کے وقت بلڈ پریشر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ سلیپ ایپنیا ہے، اس کیفیت میں نیند کے دوران سانس بار بار رکنے سے آکسیجن کی سطح کم ہو جاتی ہے اور تناؤ کے ہارمونز، جیسے ایڈرینالین اور کورٹیسول، بڑھ جاتے ہیں۔ان ہارمونز کی وجہ سے صبح بلڈ پریشر معمول سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سلیپ ایپنیا کے علاج سے بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کی کئی دوائیں قلیل المدتی اثر رکھتی ہیں اور ان کی تاثیر رات کے وقت کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں صبح کے وقت بلڈ پریشر قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹرز طویل اثر رکھنے والی ادویات اور ان کے درست وقت پر استعمال کی ہدایت دیتے ہیں۔