پاکستان میں کان کنی کا شعبہ: عالمی سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور معاشی استحکام کی امید

پاکستان میں کان کنی کا شعبہ: عالمی سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور معاشی استحکام کی امید

پاکستان میں معدنیات کے شعبے میں ترقی اور عالمی سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

 ماہرین کے مطابق ملک میں تانبہ، سونا، نمک اور کوئلہ سمیت نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جن کے موثر استعمال سے ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کی آمدنی ہو سکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی معاونت سے کان کنی کے شعبے میں ترقی کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔ تخمینوں کے مطابق صرف ریکو ڈک منصوبے سے آئندہ 37 سالوں میں 70 ارب ڈالر تک آمدنی متوقع ہے، جبکہ مجموعی طور پر معدنیات کے بہتر استعمال سے پاکستان کی سالانہ آمدنی 8 ارب ڈالر تک بڑھ سکتی ہے۔

کان کنی کے شعبے میں عالمی دلچسپی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ، جاپان، چین اور مشرق وسطیٰ کے سرمایہ کار جلد پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس شعبے کی ترقی کے لیے مالیاتی مراعات، معدنی وسائل تک آسان رسائی اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔حکومتی حکمت عملی کا محور مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنا ہے تاکہ کان کنی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کان کنی کی ترقی سے نہ صرف روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے بلکہ یہ خطے کے معاشی استحکام اور صنعتی فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔

ایس آئی ایف سی کا کہنا ہے کہ کان کنی کا شعبہ مستقبل قریب میں پاکستان کے لیے پائیدار ترقی اور خوشحالی کا ایک مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے۔