کام بند ہونے سے یومیہ نقصان،منصوبے کی توسیع پر مئیر کراچی کو اگر کوئی اعتراض تھا تو باقاعدہ نوٹس کا اجرا کیا جانا چاہئے تھا
سندھ کے لوگ چاہتے ہیں مریم نواز یہاں کام کریں تو یہاں کے لوگ ن لیگ کو ووٹ دیں، ترجمان راجہ خلیق الزمان انصاری
کراچی(آئی این پی )وفاقی حکومت کے ترجمان راجہ خلیق الزمان انصاری نے کہا ہے کہ مئیر نے گرین لائن پروجیکٹ پر سٹی وارڈنز بھیج کر زبردستی کام بند کروادیا، مئیر کراچی سے درخواست ہے مل کر کراچی کی خدمت کریں، یہ کوئی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ مل کر کام کرنا ضروری ہے ۔ وہ اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ راجہ خلیق الزمان انصاری نے کہا کہ وفاقی حکومت کو یومیہ نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، منصوبے کی توسیع پر مئیر کراچی کو اگر کوئی اعتراض تھا تو باقاعدہ نوٹس کا اجرا کیا جانا چاہئے تھا۔انہوں نے کہا کہ گرین لائن کا دوسرا فیز کامن کوریڈور ہے، مستقبل میں ساری بی آر ٹی بسیں اس پر چلیں گی۔ یہ بے بنیاد بات ہے کہ گرین لائن کے دوسرے مرحلے کا کام 2035 تک بھی مکمل نہیں ہوگا۔ اگر کام کرنے دیا جائے تو جون 2026 تک کام مکمل کرلیں گے۔ وفاقی حکومت سندھ کے 22 منصوبوں کیلئے 334 ارب روپے مختص کیے ہیں جن میں سے 18 ارب روپے منصوبوں پر خرچ کیے جاچکے ہیں اور باقی ماندہ منصوبوں پر کام کا آغاز ہونے والا ہے۔راجہ خلیق الزمان انصاری نے کہا کہ وفاق کی خواہش ہے کہ سندھ حکومت، مئیر آفس کراچی کی ترقی کے کیلئے مل کر کام کریں۔ مئیر کراچی سے درخواست ہے کہ وہ مل کر کراچی کی خدمت کریں۔ یہ کوئی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ مل کر کام کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق نے گرین لائن کے توسیعی منصوبے کے لئے ساڑھے 5 ارب کی رقم مختص کی ہوئی ہے۔۔ مئیر کو چاہئے کہ وہ کام شروع کروائیں۔ سندھ کے لوگ چاہتے ہیں مریم نواز یہاں کام کریں تو یہاں کے لوگ ن لیگ کو ووٹ دیں۔