تیسرے درجے کی مخلوق یا ہم سب کا عکس؟

کاشف بٹ
کراچی کی ایک اور خون آلود صبح، تین خواجہ سراؤں کی لاشیں سڑک پر گری ملیں۔ گولیوں کی آواز خاموش ہوگئی مگر وہ سوال زندہ ہے جو ان کی چیخوں سے بھی بلند ہے: ان کا قصور کیا تھا؟
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں نہ گھر والے اپنا سمجھتے ہیں، نہ ہی معاشرہ انہیں اپنی گود میں جگہ دیتا ہے۔ نہ اسکول کے دروازے ان کے لیے کھلتے ہیں، نہ دفاتر کی کرسیوں پر انہیں بٹھایا جاتا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں محض "تماشے" کے لیے بلایا جاتا ہے، مگر جب وہ روزگار مانگتے ہیں تو دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ کیا یہ انسان نہیں؟ کیا ان کے جسم میں خون نہیں بہتا؟ کیا اللہ نے انہیں نہیں بنایا؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کسی انسان نے اپنی مرضی سے اپنی جنس بدل لی ہو؟
ہم بڑے فخر سے جانوروں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، مہمیں چلاتے ہیں، تصویریں بنواتے ہیں، اور سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز کی بارش کرتے ہیں۔ مگر کیا کبھی کسی نے ان خواجہ سراؤں کے حق میں ایک لفظ بولا؟ کیا کبھی ان کے لیے قانون سازی کے نفاذ کا مطالبہ کیا؟ شاید نہیں، کیونکہ ہم نے انہیں "تیسرے درجے کی مخلوق" قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے جان چھڑا لی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خواجہ سرا معاشرے کی سب سے زیادہ مظلوم برادری ہیں۔ انہیں تعلیم، روزگار، تحفظ اور عزت، کچھ بھی میسر نہیں۔ وہ اپنے گھروں سے نکالے جاتے ہیں، معاشرے سے دھتکارے جاتے ہیں، اور آخرکار تشدد اور گولیوں کا نشانہ بنا دیے جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم کب تک اس ناانصافی کو برداشت کرتے رہیں گے؟ کب تک انہیں محض "تماشہ" سمجھ کر نظر انداز کرتے رہیں گے؟ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ بھی اسی خدا کی مخلوق ہیں، جس خدا نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ان کے بھی حقوق ہیں، ان کی بھی عزت ہے، ان کا بھی جینے کا حق ہے۔
یہ قتل صرف تین جانوں کا نہیں بلکہ ہماری اجتماعی سوچ کا قتل ہے۔ اصل جرم صرف قاتل کا نہیں، بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔اگر آج بھی ریاست اور معاشرہ خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لیے عملی قدم نہ اٹھائے تو یہ خونی کھیل کبھی نہیں رکے گا۔ حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ قانون صرف اکثریت کے لیے نہیں بلکہ ہر مظلوم کے لیے ہے۔ اور ہمیں، عوام کو، یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ عزت صرف طاقتور کی نہیں بلکہ کمزور کی حفاظت میں بھی ہے۔ اگر ہم نے ان کے حق کے لیے آواز نہ اٹھائی تو کل ہماری اپنی آواز بھی کوئی سننے والا نہیں ہوگا۔