یاور مہدی
برصغیر کی تاریخ میں ایک طبقہ ایسا رہا ہے جسے اقتدار کے ایوانوں میں "آسمانی مخلوق" کے لقب سے نوازا گیا۔ یہ قصہ اس انڈین سول سروس (ICS) سے شروع ہوا جسے برطانوی راج نے ایک "اسٹیل فریم" کے طور پر ڈھالا تھا۔ یہ افسران "ہیونز بورن" (Heavens Born) کہلاتے تھے۔ یعنی وہ لوگ جو زمین پر قدم تو رکھتے تھے مگر ان کا اوڑھنا بچھونا عوام سے کوسوں دور کسی اور جہان کی ریت تھی۔ کرسی پر بیٹھتے ہی ان کا لہجہ بدل جاتا اور قلم کی ایک جنبش سے بستیوں کی تقدیریں الٹ پلٹ جایا کرتی تھیں۔قیامِ پاکستان کے بعد یہ ڈھانچہ "سی ایس پی" (CSP) کی صورت میں نمودار ہوا، جسے عوام آج بھی "لاٹ صاحب" کی اصطلاح سے یاد کرتے ہیں۔ 1973 میں اسے "آل پاکستان یونیفائیڈ گریڈز" (APUG) کا نام دیا گیا، پھر وقت کی گردش نے اسے کبھی "ڈی ایم جی" (DMG) اور کبھی "پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس" (PAS) کے لبادے پہنائے۔ نام بدلتے رہے، مگر دبدبے کی جڑیں اپنی جگہ پیوست رہیں۔گزشتہ روز، 20 اپریل 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اس طویل داستان میں ایک تاریخی موڑ آیا۔ تمام 12 وفاقی گروپس کو یکجا کر کے "آل پاکستان سروسز" کے نئے ڈھانچے کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا بظاہر مقصد "ایلیٹ بمقابلہ نان ایلیٹ" کی اس دیوار کو گرانا ہے جو کسٹمز، ان لینڈ ریونیو اور ریلوے جیسے گروپس کے درمیان حائل تھی۔ مقصد یہ ہے کہ ہر افسر کو ریاست کی خدمت کے یکساں مواقع مل سکیں۔ کاغذ پر تو برابری کی لکیر کھینچ دی گئی ہے، مگر زمین پر اس کے اثرات کا امتحان ابھی باقی ہے۔یہ بالکل وہی خواب ہے جو 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو نے دیکھا تھا؛ ایک ریاست، ایک سروس۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کے ایسٹاکوڈ (Estacode) کا ساتواں باب آج بھی اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ نام کی تختیوں سے مخصوص کیڈرز ہٹا کر ایک مربوط نظام بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ لیبل تو اتر گئے، مزاج نہ بدل سکے۔سول سروس کی یہ کہانی صرف خشک ضابطوں کی نہیں، بلکہ ان مایہ ناز کرداروں کی بھی ہے جنہوں نے اپنی شخصیت کی خوشبو سے ان بے جان عہدوں کو معتبر بنایا۔ قدرت اللہ شہاب اس فہرست کا وہ درویش صفت نام ہیں جنہوں نے "شہاب نامہ" کے ذریعے بیوروکریسی کے بند کمروں کی تلخیوں کو ادب کا حصہ بنا دیا۔ غلام اسحاق خان اور سردار فاروق احمد خان لغاری جیسے افسران نے اسی سروس سے نکل کر ایوانِ صدر تک کا سفر طے کیا، جبکہ جی ایم سکندر جیسے جوہرِ قابل نے اپنی انتظامی گرفت سے عوامی فلاح کی وہ مثالیں قائم کیں جو تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چوہدری محمد علی، روئیداد خان، مختار مسعود، انور زاہد، پرویز مسعود، مہر جیون، کامران رسول ، سلمان صدیق، نجیب اللہ ملک، یوسف نسیم کھوکھر، ناصر محمود کھوسہ، کامران علی افضل، نبیل اعوان اور عرفان علی جیسے باوقار افسران نے ثابت کیا کہ اگر نیت صادق ہو تو یہ ادارہ واقعی ریاست کا مضبوط ترین ستون ہے۔
عرفان علی کا تذکرہ تو میں ناگزیر سمجھتا ہوں، کیونکہ ان کے بارے میں وہی کہاوت صادق آتی ہیکہ
’’راہ پیا جانے یا واہ پیا جانے"۔
مجھے 90 نوے کی دہائی کا چترال یاد آتا ہے، جہاں وہ بطور اسسٹنٹ کمشنر تعینات تھے۔ ہمیں میاں نواز شریف کے ہمراہ چترال میں مہمان بننے کا شرف حاصل ہوا۔ میاں نواز شریف اپنی سیاسی سرگرمیوں سے فارغ ہو کر روانہ ہو گئے، مگر ہمیں ہیلی کاپٹر کی واپسی تک وہیں رکنا پڑا۔ موسم کی بے رحمی نے قیام کو طویل کر دیا۔ اسی قیام کے دوران ہم نے پہلی بار ایک ایسے اسسٹنٹ کمشنر کو بہت قریب سے دیکھا جس کی میز پر فائلوں کا انبار کم اور فیلڈ میں اس کے قدموں کے نشان زیادہ تھے۔ وہاں فیصلے گھنٹوں میں نہیں، منٹوں میں ہوتے تھے۔ میں نے اسی وقت جان لیا کہ جب انتظامیہ "زندہ" ہو تو کیسی نظر آتی ہے۔
پھر وقت نے کروٹ لی۔ عرفان علی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے پرسنل اسٹاف آفیسر مقرر ہوئے۔ منگل، 12 اکتوبر 1999 کی وہ صبح میرے حافظے میں نقش ہے۔ ہم نے انہیں وزیراعلیٰ، ڈاکٹر توقیر شاہ، شعیب بن عزیز اور حاجی نواز کے ہمراہ کرنل سلیم اور میجر سعید، جہاز کے پائلٹ، اسلام آباد روانگی پر الوداع کہا۔ شام ڈھلی تو اقتدار کے ایوانوں میں ارتعاش برپا ہو چکا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے حکم پر فوج نے کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ بے یقینی کے ان سائے میں، جب بڑے بڑے قد آور پیچھے ہٹ رہے تھے، یہ عرفان علی ہی تھے جو چٹان کی طرح ڈٹ کر ساتھ کھڑے رہے۔ اس وقت انہوں نے وفاداری اور پیشہ ورانہ دیانت کا جو استعارہ تراشا، وہ سول سروس کے نصاب کا حصہ ہونا چاہیے۔برسوں بعد جب وہ وفاقی سیکرٹری واٹر اینڈ پاور بنے، تو مجھے ایک ذاتی مشاہدے کا موقع ملا۔ ٹیکسلا کے آرٹیزن ولیج میں دو سال سے بجلی کا ایک کنکشن محض دفتری پیچیدگیوں کی نذر تھا۔ فائلیں گردش میں تھیں اور مایوسی بڑھ رہی تھی۔ میں نے ہمت کر کے ان کے دفتر کا رخ کیا۔ صاحب میٹنگ کے منتظر تھے، مگر میرا پیغام ملتے ہی فوراً بلا لیا۔ کمرے میں فیڈرل سیکرٹری جاوید اکبر اور چیئرمین آئیسکو سمیت کئی اعلیٰ حکام موجود تھے۔میں نے عرض کیا: "جناب، عوامی مفاد کی راہ میں صرف ایک بجلی کا تار حائل ہے"۔ انہوں نے ایک لمحہ توقف کیا، چیئرمین آئیسکو کی طرف دیکھا اور مصلحت کے بجائے "فیصلہ" صادر کیا: "یہ کنکشن آج شام تک لگ جانا چاہیے"۔ سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں روشنی پہنچ چکی تھی۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک افسر اپنے عہدے کے خول سے نکل کر ایک "کردار" بن جاتا ہے۔مگر اسی افسر شاہی کا ایک تاریک پہلو وہ "خوشامدی ٹولہ" اور "کم ظرف عناصر" ہیں جو اپنی مصلحت پسندی سے ادارے کی ساکھ کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ ہمارا افسر آج بھی "ہر فن مولا" بننے کی تگ و دو میں ہے۔ جو کل ضلع کا منتظم تھا، وہ آج محکمہ صحت کا سربراہ ہے اور کل شاید معیشت کی گتھیاں سلجھا رہا ہوگا۔ اس "جنرل ڈیلیوری" کے چکر میں تخصص (Specialization) کہیں کھو گئی ہے۔سنگاپور اور چین جیسے ممالک نے دہائیوں پہلے اس نظام کو دفن کر دیا۔ وہاں محکمے کا سربراہ اس شعبے کا ماہر ہوتا ہے۔ جب تک ہم اپنی افسر شاہی کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس نہیں کرتے اور ان کی ترقی کو ٹھوس کارکردگی سے نہیں جوڑتے، تب تک ناموں کی یہ تبدیلی محض ایک نیا لیبل ہی رہے گی۔ ہمیں سنگاپور سول سروس کالج کی طرز پر سخت تربیت اور 360 ڈگری فیڈبیک کے نظام کی ضرورت ہے۔
UNDP کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 1947 سے اب تک 38 بار اصلاحات کی کوشش کی گئی، مگر عام آدمی کے لیے تھانہ اور کچہری آج بھی وہی پرانا عذاب ہیں۔ مسئلہ لیبل کا نہیں، ڈیلیوری کا ہے۔ وزیراعظم کی نیت پر شک نہیں، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ نام بدلنا آسان ہے، نظام بدلنا مشکل۔ اسٹیل فریم اب تک چھ نام بدل چکا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ "فائل فریم" کب حقیقی معنوں میں "سروس فریم" بنتا ہے۔
ریاست کاغذ پر کیے گئے دستخطوں سے نہیں، بلکہ ان افسران کے مضبوط کردار سے چلتی ہے جو سیاسی دباؤ کے سامنے سر جھکانے کے بجائے عوامی خدمت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ کیا آج کے کٹھن سیاسی ماحول میں ہمیں قدرت اللہ شہاب یا مختار مسعود جیسے آزاد منش افسران میسر آ سکیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔