سلمان احمد قریشی
سیاست کبھی کبھی سنجیدگی کے پردے میں چھپی ایک لطیف مزاحیہ داستان بھی بن جاتی ہے اور جب اسٹیج پر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے کردار موجود ہوں تو حقیقت اور طنز کے درمیان لکیر دھندلی پڑ جاتی ہے۔ حالیہ دنوں ٹرمپ کا یہ بیان کہ وہ امریکی صدارت سے ریٹائر ہو کر وینزویلاجائیں گے۔ وہاں ہسپانوی زبان سیکھیں گے اور پھر صدارتی انتخاب جیت کر اس ملک کے صدر بن جائیں گے۔یہ بیان بظاہر ایک مذاق معلوم ہوتا ہے مگر اس کے پس پردہ کئی سیاسی پرتیں چھپی ہوئی ہیں۔یہ بیان بلاشبہ ایک طنزیہ جملہ ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے اسے مکمل طور پر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سے غیر روایتی سیاستدان رہے ہیں جو بیانات کے ذریعے عالمی توجہ حاصل کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ہلچل مچائی بلکہ عالمی میڈیا کو بھی ایک نئی بحث فراہم کر دی۔یہ طنز ہے یا سیاسی اشارہ۔۔۔؟ ٹرمپ کے بیان کو اگر محض ایک مذاق سمجھ لیا جائے تو شاید ہم اس کے اصل مفہوم کو نظر انداز کر دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں۔ خاص طور پر نکولس مادورو کی حکومت کو امریکہ نے کبھی مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں تو یہ کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں وینزویلا پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں، جن کا مقصد مادورو حکومت کو کمزور کرنا تھا۔ اسی دوران امریکہ نے اپوزیشن رہنما جوان گوائیدو کو عبوری صدر تسلیم کر لیا، جس نے عالمی سطح پر ایک بڑا سفارتی بحران پیدا کیا۔ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ وہ وینزویلا جا کر وہاں کے صدر بن جائیں گے دراصل ایک طنزیہ انداز میں اسی پالیسی کا تسلسل بھی ہو سکتا ہے۔گویا وہ یہ جتانا چاہتے ہوں کہ امریکی اثر و رسوخ اس قدر ہے کہ وہ کسی بھی ملک کی سیاست میں کردار ادا کر سکتا ہے۔حقیقت میں وینزویلا بحرانوں کی سرزمین رہا۔ وینزویلا اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو شدید اقتصادی اور سیاسی بحرانوں سے گزر رہے ہیں۔ تیل سے مالا مال ہونے کے باوجود، بدانتظامی، کرپشن اور عالمی پابندیوں نے اس ملک کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔شاویز کے دور میں شروع ہونے والی سوشلسٹ پالیسیوں کو ان کے جانشین مادورو نے جاری رکھا لیکن بدلتے عالمی حالات اور اندرونی کمزوریوں نے اس نظام کو کمزور کر دیا۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، اور لاکھوں لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
ایسے حالات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ایک طرح سے وینزویلا کی سیاسی کمزوریوں پر طنز بھی ہے گویا یہ کہنا کہ اس ملک میں کوئی بھی آ کر اقتدار حاصل کر سکتا ہے۔بین الاقوامی قوانین کو سامنے رکھتے ہوئے
اگر اس بیان کو سنجیدگی سے لیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی کوئی سابق امریکی صدر کسی دوسرے ملک کا صدر بن سکتا ہے۔۔؟ اس کا جواب واضح طور پر نہیں ہے۔کسی بھی ملک کا صدر بننے کے لیے اس ملک کی شہریت، آئینی تقاضے اور سیاسی عمل سے گزرنا ضروری ہوتا ہے۔ وینزویلا کے آئین کے مطابق صدر بننے کے لیے پیدائشی شہریت اور مخصوص شرائط لازمی ہیں۔ لہٰذا یہ تصور کہ ٹرمپ بغیر کسی قانونی عمل کے وینزویلا کے صدر بن سکتے ہیں، محض ایک خیالی اور طنزیہ خیال ہے۔
یہ دعویٰ کہ ٹرمپ کو وینزویلا کی شہریت وراثت میں ملی ہے یا انہیں ویزہ کی ضرورت نہیں۔حقیقت سے دور اور محض افواہوں کا حصہ ہے۔ بین الاقوامی قانون اس طرح کی کسی بھی غیر معمولی رعایت کی اجازت نہیں دیتا۔اقوام متحدہ اور عالمی نظام کی موجودگی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو بعض مبصرین نے عالمی اداروں، خصوصاً اقوام متحدہ کے کردار پر بھی ایک طنزیہ حملہ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ اپنے دورِ صدارت میں بھی اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں پر تنقید کرتے رہے ہیں، اور انہیں غیر مؤثر قرار دیتے رہے ہیں۔
یہ بیان دراصل اس سوچ کی عکاسی بھی کرتا ہے کہ عالمی نظام کمزور ہو چکا ہے جہاں طاقتور ممالک اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کر سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک مبالغہ آمیز بات ہے لیکن عالمی سیاست میں طاقت کے عدم توازن کی حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں۔یہ بھی ایک دلچسپ تضاد ہے کہ ٹرمپ کو بعض حلقوں کی جانب سے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا جاتا رہا جبکہ ان کی پالیسیوں کو اکثر جارحانہ اور تنازعات کو ہوا دینے والا قرار دیا گیا۔ وینزویلا کے حوالے سے ان کی سخت پالیسی اور اب یہ طنزیہ بیان دونوں مل کر ایک ایسا تاثر پیدا کرتے ہیں جو امن کے دعوؤں سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا۔ کچھ لوگوں نے اسے ایک مزاحیہ جملہ قرار دیا جبکہ دیگر نے اسے امریکی بالادستی کی علامت کے طور پر دیکھا۔ میمز، طنزیہ تبصرے اور سیاسی تجزییہر زاویے سے اس بیان کو پرکھا جا رہا ہے۔یہ ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کے دور میں سیاست صرف پالیسیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک پرفارمنس بن چکی ہے، جہاں بیانات اور اندازِ گفتگو بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے عملی اقدامات ہوتے ہیں۔سوشل میڈیا پر اس بیان نے ایک طوفان برپا کر دیا۔ کچھ لوگوں نے اسے محض مزاح قرار دیا جبکہ دیگر نے اسے امریکی بالادستی کی علامت کے طور پر دیکھا۔ میمز، طنزیہ تبصرے اور سیاسی تجزیے ہر زاویے سے اس بیان کو پرکھتے رہے۔ یہ ردعمل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ آج کی سیاست محض پالیسی سازی تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک پرفارمنس بن چکی ہے۔
یہی رجحان ہمیں پاکستان کی داخلی سیاست میں بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں عمران خان کی شخصیت کے گرد ایک خاص بیانیہ تشکیل پایا۔ ان کے چاہنے والے اکثر اندازِ گفتگو، شخصیت اور طرزِ زندگی سے اس قدر متاثر نظر آتے ہیں کہ انہیں عالمِ اسلام کا لیڈر تصور کرنے لگتے ہیں، حالانکہ عالمی سطح پر بطور ریاست پاکستان کا کردار زیادہ اہمیت کا حامل ہے نہ کہ کسی ایک فرد کا ہوسکتا ہے۔تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ پاکستان آج عالمی سطح پر ایک مثبت شناخت کے ساتھ ابھر رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً سی این این پر پاکستان کا کردار زیرِ بحث ہے۔ ایک ایسا ملک جسے کبھی دہشتگردی سے جوڑا جاتا تھا، آج امن کی کوششوں کے حوالے سے پہچانا جا رہا ہے یہ یقیناً باعثِ فخر ہے۔دعا ہے کہ پاکستان کی یہ کاوشیں نہ صرف ملک کے لیے باعثِ عزت بنیں بلکہ دنیا میں امن کے قیام کا ذریعہ بھی ثابت ہوں، خصوصاً مڈل ایسٹ میں پائیدار استحکام کی صورت میں آ ئیں۔
طنز کے پردے میں حقیقت ٹرمپ کا یہ بیان بظاہر ایک مذاق ہے لیکن اس کے اندر عالمی سیاست کی کئی تلخ حقیقتیں چھپی ہوئی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت، اثر و رسوخ اور میڈیا کی قوت کس طرح ایک بیان کو عالمی بحث کا موضوع بنا سکتی ہے۔وینزویلا کا بحران، امریکہ کی پالیسی اور عالمی اداروں کی محدود حیثیت یہ سب عوامل اس ایک جملے میں سمٹ آئے ہیں۔ ٹرمپ نے شاید یہ بات ہنسی میں کہی ہو لیکن اس نے دنیا کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا واقعی عالمی نظام اتنا ہی مضبوط ہے جتنا ہم سمجھتے ہیں؟آخرکار، سیاست میں بعض اوقات سب سے گہری بات وہ ہوتی ہے جو ہنستے ہوئے کہی جائے۔