جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک اہم بیان کی تفصیل ہے، جس میں انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم کو سختی سے مسترد کیا ہے۔
انہوں نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس ترمیم کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ترمیم نہ صرف آئین میں بہتری کا سبب نہیں بنے گی بلکہ عوام کے مفادات کے بھی خلاف ہے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت اس ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہتی ہے، جو ان کے مطابق عدلیہ کی آزادی اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ انہوں نے اس ترمیم کی مخالفت میں واضح الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کے اپنے مفادات کے لیے ہے اور عوام کے حق میں نہیں ہے۔مزید انہوں نے ایک شرعی سوال اٹھایا کہ 18 سال سے کم عمر کو نابالغ قرار دینا کس شریعت میں شامل ہے، جو اس ترمیم کے شرعی اور فقہی پہلوؤں پر تنقید کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس ترمیم کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں اور اس کے خلاف آواز بلند کریں گے۔اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جے یو آئی اور مولانا فضل الرحمان اس ترمیم کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں اور اسے ملک کے آئینی اور شرعی اصولوں کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ان کا موقف عوامی مفادات کے تحفظ اور عدلیہ کی آزادی کے حق میں ہے، اور وہ اس کے خلاف تحریک جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔