اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شبلی فراز کو دو مقدمات میں اشتہاری قرار دے دیا ہے۔
یہ کارروائی جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران عمل میں آئی، جس کی قیادت جج طاہر عباس سپرا نے کی۔سماعت کے دوران شبلی فراز کی مسلسل عدم حاضری کی بنیاد پر انہیں اشتہاری قرار دیا گیا، جب کہ سابق وزیر قانون راجہ بشارت اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے سردار محمد مصروف خان اور زاہد بشیر ڈار ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جنہوں نے پیشی کے دوران عدالت میں حاضر ہونے کی تصدیق کی۔عدالت نے پیش ہونے والے ملزمان کی حاضری کے بعد سماعت ملتوی کر دی۔
یہ مقدمات تھانہ رمنا میں درج کئے گئے ہیں، جن کے مطابق 28 فروری کو جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان پر حملہ آور ہونے کا الزام ہے۔ ان مقدمات میں شبلی فراز اور دیگر ملزمان پر دہشت گردی اور دیگر سنگین الزامات عائد ہیں۔واضح رہے کہ شبلی فراز اور دیگر ملزمان کی عدم حاضری کے سبب عدالت نے ان کے خلاف اشتہاری وارنٹ جاری کیے تھے، جن کے تحت ان کی گرفتاری عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے سماعت کو جاری رکھتے ہوئے مزید تفتیش اور ملزمان کی حاضری کے حوالے سے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔