پاکستان کے معروف اداکار، ہدایت کار، اور پروڈیوسر جاوید شیخ نے اپنی زندگی کے سب سے مشکل دور کے بارے میں کھل کر بات کی ہے اور اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ کس طرح اُن کا غیر متزلزل ایمان اور اللہ پر یقین نے انہیں مشکلات سے نکالا۔
جاوید شیخ نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ 2000 کے آس پاس ان کی تمام فلمیں فلاپ ہو گئی تھیں اور اس وقت ان کے پاس کوئی کام نہیں تھا۔ ان کے مخالفین ان سے منہ موڑ چکے تھے اور سب لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ جاوید شیخ کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ان کی زندگی کا سب سے برا دور تھا، لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور اللہ پر یقین رکھا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہر روز اسٹوڈیو جاتے، دوستوں سے ملتے اور لوگوں کی منفی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اللہ پر بھروسہ رکھتے تھے۔ ایک دن، اللہ کی مدد سے، ایک فنانسر ان کے پاس آیا اور اگلی فلم کے لیے 5 کروڑ روپے دینے کی پیشکش کی، جو کہ جاوید شیخ کے لیے ایک معجزہ تھا۔
اس کامیاب فلم کے بعد وہی لوگ جو ان کا مذاق اُڑا رہے تھے، ٹکٹ مانگنے آئے، لیکن جاوید شیخ نے انہیں انکار کر دیا۔ جاوید شیخ کا کہنا تھا کہ اگر آپ کا اللہ پر پختہ یقین ہو تو کوئی بھی مشکل آپ کے راستے میں نہیں آ سکتی۔ان کے اس بیان سے یہ سبق ملتا ہے کہ مشکلات کے باوجود ثابت قدم رہنا اور اللہ پر بھروسہ رکھنا زندگی کے مشکل ترین وقتوں میں بھی کامیابی کی کنجی ہو سکتا ہے۔