محمد نوید مرزا
پاکستان کی نامور گلوکارہ نیرہ نور کو ان کی خوبصورت گائیکی ،مترنم آواز اور دلوں کو چھو لینے والے انداز کی وجہ سے بلبل پاکستان کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔نور جہاں کے بعد جن چند گلوکاراؤں نے ہمارے وطن کی موسیقی کو دنیا میں ایک پہچان دی اس میں ایک اہم نام نیرہ نور کا بھی تھا انھوں نے غزل ،گیت اور نظم تینوں اصناف کو بہت خوبصورتی سے اپنی آواز میں گایا۔ان کے گائے ھوئے گیت ھمیشہ ھمارے کانوں میں رس گھولتے رھیں گے۔نیرہ نور اس جہان فانی سے رخصت ھو کر امر ھو چکی ہیں۔۔۔۔
نیرہ نور ایک منفرد آواز تھییں۔نیرہ نور کی ولادت 03 نومبر 1950 کو ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں ہوئی۔نیرہ کے والد مسلم لیگ کے فعال رکن تھے۔جب قائد اعظم پہلی بار آسام تشریف لے گئے تو نیرہ نور کے والد نے ان کی میزبانی کی تھی اور بانئی پاکستان ان کے گھر بھی قیام پذیر ھوئے تھے۔تقسیم پاک و ھند کے موقع پر یہ خاندان پاکستان منتقل نہ ھو سکا۔تاھم آزادی کے گیارہ برس بعد 1958ء میں نیرہ اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان آگئیں۔بچپن میں نیرہ نور کانن دیوی اور اختری بائی سے بہت متاثر تھیں۔بھارت میں ھر صبح سکول کے آغاز میں ان کے بھجن گائے جاتے تھے،جو دوسرے بچوں کے ساتھ نیرہ کو بھی سننے پڑتے تھے۔یوں ابتدائی طور پر وہ موسیقی سے آشنا ھوئیں۔1968 ء میں جب وہ اسلامیہ کالج کی طالبہ تھیں،انھوں نے اساتذہ اور طالبات کے ساتھ مل کر این سی اے کے ایک عشائیے میں گیت گا کر موسیقی کے شائقین کی توجہ حاصل کی۔نیرہ نور1971ئمیں پاکستان ٹیلی ویڑن میں متعارف ھوئیں۔جہاں انھوں نے شعیب ھاشمی کے پروگراموں گپ شپ اور ٹال مٹول میں گلوکاری کی۔بعد ازاں انھوں نے غزل،گیت اور ملی نغمے گا کر ملک گیر شہرت حاصل کی۔انھوں نے نعتیہ کلام اور کلام اقبال کو بھی بڑی مہارت سے پڑھا اور پذیرائی حاصل کی۔
نیرہ نور نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت تو حاصل نہیں کی تھی لیکن وہ قدرتی طور پر ایک بے مثال گلوکارہ تھیں،انھوں نے جو بھی گایاامر ھو گیا۔نیرہ نور کی گائی ھوئی مشہور غزلوں میں بہزاد لکھنوی کی غزل۔۔۔۔اے جذبہء دل گر میں چاھوں ھر چیز مقابل آجائے۔۔۔۔اور اقبال عظیم صاحب کی غزل۔۔۔۔۔مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سر بزم رات یہ کیا ھوا۔۔۔۔اور ناصر کاظمی کی غزل۔۔۔۔۔۔۔پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے۔۔۔شامل ھیں۔ان کی دو نظمیں ،اے عشق ھمیں برباد نہ کر،شاعر اختر شیرانی اور ،کبھی ھم خوبصورت تھے،شاعر احمد شمیم بھی عالمگیر شہرت رکھتی ھیں۔نیرہ کے گائے گئے فلمی گیت اور کلام فیض بھی لوگوں کے دلوں کے تار کھینچتا رھے گا۔اس کے علاؤہ انھوں نے چند ملی نغمے بھی گائے جن میں جناب مسرور انور کا لکھا ھوا گانا۔۔۔وطن کی مٹی گواہ رھنا، اور کلیم عثمانی صاحب کا لکھا ھوا گیت ،اس پرچم کے سائے تلے ھم ایک ھیں،ان کی نہ صرف ملکی بل کہ عالمی سطح پر پہچان بن چکے ھیں۔۔۔
نیرہ نور اپنے مخصوص انداز،سادگی ،رکھ رکھاؤ اور گائیکی میں اعلی معیار کی وجہ سے ھمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔انھوں نے پاکستانی ثقافت کو موسیقی کے ذریعے پوری دنیا میں متعارف کروانے میں اھم کردار ادا کیا۔انھیں اپنی بہترین صلاحیتوں کی وجہ سے پرائیڈ آف پرفارمنس اور نگار ایوارڈ سمیت ،سونے کے تمغوں اور بہت سے اعزازات سے نوازا گیا نیرہ نور نے فلم ،تھیٹر اور ٹی وی تینوں جگہ ایک جیسی مہارت اور خوبصورتی سے گیت گائے اور عزت و شہرت حاصل کی،نیرہ نور کے شوھر شہر یار زیدی ٹی وی اداکار اور بچے بھی شوبز سے وابستہ ھیں۔نیرہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ھو کر پاکستان کی 75 ویں سالگرہ کے ایک ھفتے بعد 21 اگست 2022ء کو اس دنیائے فانی سے رخصت ھو گئیں،اللہ پاک اس بے مثال شخصیت کی مغفرت فرمائیں ،آمین