امجد علی
نور ایک ایسا لفظ جو محض روشنی نہیں، بلکہ حقیقت، ہدایت اور روحانی شعور کا ہمہ گیر استعارہ ہے۔ قرآنِ مجید جب اللہ تعالیٰ کو "نورْ السمواتِ والارض" کے طور پر متعارف کرواتا ہے، تو یہ صرف کائناتی اجالے کی بات نہیں بلکہ وجود کی ہر پرت میں سرایت کیے اْس الٰہی انکشاف کا ذکر ہے جو عدم کو ہستی عطا کرتا ہے۔ یہ نور صرف بصری نہیں، بلکہ وہ عرفانی بصیرت ہے جو دلوں کو روشن کرتی ہے، ذہنوں کو جہالت کے پردوں سے نکال کر آگہی کے میناروں پر بٹھاتی ہے، اور روح کو فنا سے نکال کر بقا کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ وہی نور ہے جو "احسن تقویم" میں نفخ کیا گیا ہے اور جس کا اظہار سچے سجدے، خالص دعا، اور ہدایت یافتہ سوچ میں نمو کرتا ہے۔
قرآنی آیت کی تفہیم میں سب سے پہلے لفظ "نور" پر غور کرنا ضروری ہے۔ اس کا روٹ ورڈ ن-و-ر ہے، جس کے معنوں میں رو…
**اللہ، زمین و آسمان کا نور ہے**
تحریر۔۔۔۔امجد علی
نور... ایک ایسا لفظ جو محض روشنی نہیں، بلکہ حقیقت، ہدایت اور روحانی شعور کا ہمہ گیر استعارہ ہے۔ قرآنِ مجید جب اللہ تعالیٰ کو "نورْ السمواتِ والارض" کے طور پر متعارف کرواتا ہے، تو یہ صرف کائناتی اجالے کی بات نہیں بلکہ وجود کی ہر پرت میں سرایت کیے اْس الٰہی انکشاف کا ذکر ہے جو عدم کو ہستی عطا کرتا ہے۔ یہ نور صرف بصری نہیں، بلکہ وہ عرفانی بصیرت ہے جو دلوں کو روشن کرتی ہے، ذہنوں کو جہالت کے پردوں سے نکال کر آگہی کے میناروں پر بٹھاتی ہے، اور روح کو فنا سے نکال کر بقا کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ وہی نور ہے جو "احسن تقویم" میں نفخ کیا گیا ہے اور جس کا اظہار سچے سجدے، خالص دعا، اور ہدایت یافتہ سوچ میں نمو کرتا ہے۔
قرآنی آیت کی تفہیم میں سب سے پہلے لفظ "نور" پر غور کرنا ضروری ہے۔ اس کا روٹ ورڈ ن-و-ر ہے، جس کے معنوں میں روشنی، اجالا، ہدایت، منور کرنے والا، ملکوتی، اور سماوی روشنی شامل ہیں۔ قرآنِ عظیم میں نور اور اس سے جْڑے مفاہیم کئی مقامات پر بیان ہوئے ہیں۔ سور? النور کی اس مخصوص آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کی جو مثال بیان فرمائی، وہ انسانی فہم کو حیرت میں ڈال دیتی ہے:
"اللہ زمین و آسمان کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ ہو، چراغ ایک شفاف فانوس میں رکھا ہو، وہ فانوس گویا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہو۔ یہ چراغ زیتون کے ایک ایسے بابرکت درخت کے تیل سے جلایا جاتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔ قریب ہے کہ اس کا تیل خودبخود روشن ہو جائے خواہ آگ نے چھوا بھی نہ ہو۔ یہ نور? علیٰ نور ہے۔ اللہ جسے چاہے اپنے نور کی طرف ہدایت دیتا ہے۔" (سور? النور)
ائمہ اکرام کے نزدیک اس آیت کی تفسیر میں دو نکات پر اجماع پایا جاتا ہے۔۔۔اول، بندے کا قلب طاق ہے، ذکر الٰہی وہ تیل ہے جو چراغ کو آگ کے بغیر بھی روشن کرتا ہے۔ دوم، اس مثال کا مصداق حضور نبی کریم ? کا سین? مبارک ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر? کے مطابق فانوس آپ? کا قلبِ اطہر ہے اور چراغ وہ نور ہے جو اللہ نے آپ? کے قلب میں رکھا۔ وہ نہ شرقی ہے نہ غربی، بلکہ حضرت ابراہیم? کے پاک شجر? مبارکہ سے منسلک ہے۔ نورِ ابراہیمی پر نورِ محمدی کا انعام "نور? علیٰ نور" ہے۔
اسی مفہوم کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان? نے ایک شعر میں سمو دیا:
"شمع دل مشکوٰ? تن، سینہ زجاجہ نور کا
تیری صورت کے لیے آیا ہے سورۃ نور کا"
حدیث میں آتا ہے: "اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا". دوسری جگہ فرمایا: "نماز نور ہے". جان عالم حضور کی ذات مطہرہ کامل نمونہ ہیں، احسنا تقویم ہیں، رحمت اللعالمین اور نور ہدائیت ہیں۔ حدیث النجوم میں ہے میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پا لو گے۔ نماز کیا ہے! بیشک یہ برائیوں اور فحش کاموں سے روکتی ہے، یعنی صراط مستقیم ہے۔ یہ مومن کی معراج ہے اس سے واضح ہوا کہ آپ کی ذات اور نماز دونوں ہدایت اور نور کی علامات ہیں۔ اگر صاحبہ ستاروں کی مانند ہیں جو روشن ہوتے ہیں اور بمنزلہ نور ہوتے ہیں تو کیا شان کیا مقام ہو گا میرے مصطفے' کریم کا۔قرآن کی سورہ فتح اور صحیح بخاری و مسلم کی احادیث کے مفہوم کے مطابق قیامت کے دن مومنوں کی پہچان ان کے چہروں، ہاتھوں اور پاؤں کی چمک سے ہوگی، جو سجدہ اور وضو کے اثرات کی علامت ہوگی۔ یہ علامتیں متقی و پرہیزگار لوگوں کو ملنے والے اجر اور تحفہ ربانی، نور کی ہیں۔ یہی کامل لمحے جنہیں مل جائیں وہی قلوب فاتح کن فیکون ہوتے ہیں پھر کہتے ہیں۔۔
زباں تاں میری کنّ برابر، موڑاں کم قلم دے ہو
افلاطون ارسطو ورگے، میں اگے کس کم دے ہو
حاتم ورگے لکھ کروڑاں، در باہو دے منگدے ہو
جیسے عددی نظام زیرو سے شروع ہو کر لامحدود کی طرف جاتا ہے، ویسے ہی نور کا سفر تاریکی سے روشنی کی طرف ہے۔ اندھیرے کی مختلف اقسام ہیں: رات کی تاریکی، ظلم و جبر کا اندھیرا، جہالت، دل کی بے نوری اور روح کی بے سمتی۔ مگر غور کیا جائے تو اندھیرا بذات خود کوئی وجود نہیں رکھتا، یہ صرف روشنی کے فقدان کا نام ہے۔ جیسے سردی، حرارت کی کمی ہے؛ ویسے ہی اندھیرا، نور کا انکار ہے۔ باطل کی حقیقت بھی یہی ہے ایک فریب، جو صرف اس وقت باقی رہتا ہے جب تک حق کی روشنی نہیں پھوٹتی۔
انسان آغاز میں ایک مجسمہ، بت تھا۔یعنی وہ تاریک گڑھا تھا۔ اسے ہنر مند ہاتھوں کے لمس کی روشنی میسر نہیں ہوئی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"پھر جب میں اسے ٹھیک ٹھاک (سنوار) کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں..." (القرآن)
یہی نفخِ روحی انسان کو نور عطا کرتا ہے، اسے شعور، فہم اور بصیرت عطا ہوتی ہے۔ انسان کا چہرہ فطرتِ الٰہیہ کی جھلک ہے، آنکھوں میں بصیرت، پیشانی پر وقار، اور لبوں پر دانائی اس کے حسن کی گواہی دیتے ہیں۔ اس کی مسکراہٹ فرشتوں کو رشک میں ڈال دیتی ہے اور اس کا سجدہ ربِ کائنات کی رحمت کے دروازے وا کرتا ہے۔
انسانی ذہن نیورانوں کے لطیف دھاگوں کے جال سے بنا ہوا ایک منفرد لیومینیٹڈ
(Luminated)
جہان ہے، جو مسلسل بہتی، جھلملاتی روشنیوں کا مختتم سائنسی جہان ہے۔ جہاں اگر نور ختم ہو جائے تو وہ دیکھ کر بھی اندھا، جان کر بھی جاہل ہو جاتا ہے۔ وہ اوہام و خرافات کے اندھیروں میں گم ہو کر کمزور سہاروں سے امید باندھتا ہے۔
دنیا کی ہر روشنی محدود ہے۔ سورج، چاند، ستارے، علم، آنکھ، بجلی، سب محدود وقت، مقام اور وسیلے سے بندھے ہوئے ہیں۔ ان کی چمک وقتی اور اثر عارضی ہے۔ اتنا محدود کہ آنکھ ایک ہلکے سے پردے کے پار کچھ نہیں دیکھ پاتی یہی احوال ہے جملہ حواس کا ہے۔
لیکن اللہ کا نور؟
وہ قدیم ہے، لافانی، غیر مشروط اور سب سے بلند۔ وہی اشیاء کو وجود کا شعور عطا کرتا ہے، وہی دلوں کی سچائی کو بصیرت میں ڈھالتا ہے، اور وہی عقل کو "نور" کا لقب عطا کرتا ہے۔ یہ نور پردوں اور فاصلوں کی فصیلوں کے اس پار شفاف آئینے کی طرح دیکھتا ہے سب جان کر بھی بس خاموش رہتا ہے
جب یہ نور انسان کے باطن میں اترتا ہے، تو شکوک یقین میں بدل جاتے ہیں، جہالت فہم میں، اور دل کے پردے ہٹتے چلے جاتے ہیں۔ یہی "نفخِ روحی" انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز بناتا ہے۔ یہ نور اْس دل میں اترتا ہے جو شفاف ہو پھر وہ دل فانوس بن جاتا ہے اور ذکر الٰہی سے جلتا ہوا چراغ۔
یہی وہ نور ہے جس نے حضرت ابراہیم کو آگ میں ٹھنڈک بخشی، حضرت موسیٰ کو کوہِ طور پر تجلی دی، اور حضور کے قلبِ اطہر کو وحی کی روشنی سے منور فرمایا۔ یہی نور ہے جو کسی ولی کے دل میں ہدایت بن کر دھڑکتا ہے، اور عاشقِ صادق کی زبان سے ذکر بن کر نکلتا ہے اور فضاؤں کو بدل دیتا ہے۔
جب انسان اللہ کے نور کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ صرف اندھیروں سے نہیں نکلتا، بلکہ خود چراغ بن جاتا ہے، ایسا چراغ جو دوسروں کو بھی راستہ دکھاتا ہے۔ دل اگر بند نہ ہو، تو یہی نور انسان کو "عبد" سے "عبدالنور" بنا دیتا ہے۔
حدیثِ مبارکہ ہے:
"مومن کی فراست سے ڈرو، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے"
مولانا روم فرماتے ہیں:
"نور وہ شے ہے جو اندھوں کو بھی دل کی آنکھ دے دیتا ہے"
یہی وہ نور تھا جس کی طاقت سے حضرت عمر فاروق کی صدا "یا ساری الجبل" سینکڑوں میل دور پہنچ گئی۔ یہی نور وہ طاقت ہے جس سے حضرت موسیٰ نے کوہِ طور پر اپنے رب سے کلام کیا۔ یہ نور خالص کردار، پاک ارواح اور صادق دلوں میں سکونت اختیار کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"ہم تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں" (القرآن)
یہ قرب جسمانی نہیں، بلکہ نورانی ہے۔ جیسے سورج کی کرنیں زمین کے ذروں کو جگمگاتی ہیں، ویسے ہی ایمان کی روشنی جب دل میں اترتی ہے، تو وہ ہدایت کا مینار بن جاتا ہے۔ لیکن اگر دل سیاہی سے آلودہ ہو، تو نور لاکھ دروازہ کھٹکھٹائے، دل اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے۔
جیسے ہزاروں میڑک ٹن پتھر کے دیو قامت پہاڑوں میں چند گرام وزنی ہیرے کے دانے ملتے ہیں بعینہ
کروڑوں میں سے چند نفوس ایسے ہوتے ہیں جو اللہ کے نور کے لیے چنے جاتے ہیں۔ یہ متقین، صادقین، شہداء اور صالحین ہوتے ہیں جن کی ہر سانس، ہر عمل، اور ہر لمحہ نور کی گواہی بن جاتا ہے۔ وہ "نور? علیٰ نور" کی عملی مثال ہوتے ہیں، جیسے زیتون کا خالص تیل جو بغیر آگ کے بھی چمکتا ہے۔زمین اگرچہ مٹی سے بنی ہے، لیکن اس کی اصل رونق آسمانی نور کی کرنوں سے ہے۔ انسان جب اس نور کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے، تو اس کی پیشانی، نگاہ اور مسکراہٹ رب کی رحمت کو زمین پر اتار دیتی ہے۔یہی نورِ الٰہی انسان کو اندھیروں سے نکالتا ہے، ہدایت دیتا ہے، اور رب کے قرب کا مستحق بناتا ہے۔ انسان کا اصل مقصد یہی ہے کہ وہ اس نور کی تلاش کرے، اسے اپنے وجود کا حصہ بنائے، اور اس کی روشنی میں اپنی زندگی کو منور کر دے۔ یہی کائنات کا اصل ہے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ
واللہ اعلم