امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا روس کے خلاف فی الحال مزید پابندیاں عائد نہیں کرے گا تاکہ جاری تنازعے کے دوران امن مذاکرات کے امکانات باقی رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ روس سے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا ضروری ہے۔
جنگ بندی کے لیے بات چیت کا امکان باقی رکھنا چاہتے ہیں
امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا:"اگر ہم نے روس پر مزید پابندیاں لگادیں تو ممکن ہے کہ ہم روس سے جنگ بندی پر بات کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھیں، اور اگر ایسا ہوا تو پھر روس سے بات کرے گا کون؟"انہوں نے زور دیا کہ امریکا ایسے تمام مواقع کا فائدہ اٹھائے گا جو روس کو مذاکرات کی میز پر لا سکیں۔
روابط جاری رکھنے کی ضرورت
مارکو روبیو نے کہا کہ:"ہم روس کے ساتھ روابط جاری رکھیں گے۔ اگر ہمیں مؤثر انداز میں کچھ کرنے کا موقع ملا تو ہم ضرور اسے استعمال کریں گے۔"انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام فیصلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں بین الاقوامی حکمت عملی کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔
پابندیوں کے بارے میں صدر کو مکمل اختیار ہونا چاہیے
مارکو روبیو نے کہا:"صدر ٹرمپ جانتے ہیں کہ روس کے خلاف نئی پابندیوں کے لیے صحیح وقت اور درست طریقہ کار کیا ہوگا۔"انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کانگریس کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ صدر کو سفارتی حکمت عملی کے تحت مکمل لچک حاصل ہو تاکہ وہ عالمی سطح پر مؤثر فیصلے کر سکیں۔