فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات میں حالیہ گھنٹوں کے دوران واضح تیزی آئی ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے چند دنوں میں اہم معاہدہ ممکن ہے۔
ثالثی کردار میں سرگرمی، لیکن باضابطہ تجاویز کا انتظار
حماس کے سینئر رہنما اور ترجمان طاہر النونو نے عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا:"مصر اور قطر میں موجود ہمارے ثالث بھائیوں کے ساتھ روابط پہلے سے قائم تھے، لیکن حالیہ گھنٹوں میں یہ مزید مضبوط اور سرگرم ہو گئے ہیں۔"تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ:"ابھی تک کوئی نئی باضابطہ جنگ بندی تجاویز حماس کو موصول نہیں ہوئیں۔"
امریکی دعویٰ اور سفارتی کوششیں
صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ:"غزہ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ایک اہم معاہدہ چند دنوں میں ممکن ہے۔"جبکہ امریکی ثالث بشارة بہبہ کے مطابق:
"اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی پر بات چیت میں پیش رفت جاری ہے۔"
مصر اور قطر کا اہم کردار
واضح رہے کہ مصر اور قطر کئی ماہ سے اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان دونوں ممالک نے متعدد بار عارضی جنگ بندیاں کروائیں، جن میں انسانی امداد کی رسائی اور قیدیوں کے تبادلے کی کوششیں شامل تھیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ:"اگرچہ کسی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا، مگر ثالثی کے چینلز کا فعال ہونا ایک مثبت اشارہ ہے۔"