زراعت کی ترقی کے لیے آئندہ بجٹ میں کھاد اور زرعی ادویات پر ٹیکس نہیں لگے گا، وزیراعظم شہباز شریف

 زراعت کی ترقی کے لیے آئندہ بجٹ میں کھاد اور زرعی ادویات پر ٹیکس نہیں لگے گا، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت زرعی شعبے کی بہتری سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں زراعت کی ترقی، کسانوں کی سہولت، اور ملکی معیشت میں زرعی کردار کو مضبوط بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ بجٹ میں کھاد اور زرعی ادویات پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا تاکہ کسانوں پر مالی بوجھ نہ پڑے اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس کی ترقی سے دیہی علاقوں کے رہائشیوں کو براہ راست فائدہ ہوگا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ زرعی مشینری اور آلات پر ٹیکس بتدریج کم کیا جائے گا تاکہ فارم میکینائزیشن کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے زرعی اجناس کی اسٹوریج کیپیسٹی بڑھانے کے اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایت بھی دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ:نیشنل ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ ایکشن پلان پر کام جاری ہے جس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔زرعی ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کو بڑھا کر قیمتی زرمبادلہ کمانے پر زور دیا جا رہا ہے۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ آئی ٹی بورڈ کے تحت "اگنائٹ" منصوبے کے ذریعے 129 زرعی اسٹارٹ اپس کا آغاز ہو چکا ہے۔
وزیراعظم نے زرعی اسکالرشپ پر چین بھیجے جانے والے طلبا سے توقع ظاہر کی کہ وہ واپسی پر زرعی شعبے میں انٹرپرینیورشپ کے ذریعے قابل قدر خدمات انجام دیں گے۔اجلاس میں وفاقی وزرا، زرعی ماہرین اور پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندگان نے شرکت کی، جنہوں نے زرعی قرضوں کی آسان فراہمی، انفرا اسٹرکچر کی بہتری اور پیداواری لاگت کم کرنے سے متعلق تجاویز پیش کیں۔وزیراعظم نے تمام تجاویز پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے میں پائیدار اصلاحات سے نہ صرف کسان مضبوط ہوں گے بلکہ معیشت بھی مستحکم ہوگی۔