مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمن
حال ہی میں پارلیمنٹ سیمنظور کردہ اس بل پر صدرِ مملکت نے دستخط کرلیے ہیں جس کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی تحدید کر دی گئی ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
اس قانون کی دفعہ 2 (اے) کے مطابق ''بچے'' سے مراد 18 سال سے کم عمر کا فرد ہے۔ دفعہ 2 (ای) کے تحت ''بچے کی شادی'' سے مراد ایسی شادی ہے جس میں دونوں فریقوں یا ایک فریق کی عمر 18 سال سے کم ہو۔ دفعہ 3 کی رو سے بچے کی شادی رجسٹر کرنے والے نکاح رجسٹرار کے لیے 1 سال تک قید اور 1 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا رکھی گیی ہے۔دفعہ 5 کے مطابق بچے کے ساتھ بدسلوکی پر کم سے کم 5 سال اور زیادہ سے زیادہ 7 سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی ہے اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ دفعہ 7 کے مطابق بچے کی شادی کی اجازت دینے والے یا اسے روکنے میں ناکام رہنے والے والد، والدہ یا سرپرست کے لیے 2 سے 3 سال تک قید کی سزا رکھی گئی ہے اور مزید جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔
اسلام میں لڑکے یا لڑکی کے لیے شادی کی کوئی خاص عمر مقرّر نہیں کی گئی۔ البتہ بلوغت سے پہلے لڑکییا لڑکی خود سے شادی نہیں کرسکتے،بلکہ ولی کوان کے مصالح کو مدنظر رکھتے ہوئے نکاح کرانے کا شرعاً حق ہوتا ہے، چناں چہ قرآن کریم میں ہے:
ترجمہ:’’تمہاری (مطلقہ) بیویوں میں سے جو عورتیں حیض آنے سے مایوس ہوچکی ہیں اگر تم کو (ان کی عدّت کے تعیین میں) شبہ ہو تو ان کی عدّت تین مہینے ہیں اور(اسی طرح)ان عورتوں کی بھی جنہیں ابھی حیض نہیں آیا۔‘‘
اس آیت میں ان لڑکیوں کے طلاق کی عدّت تین ماہ بیان کی گئی ہے جن کو ابھی تک حیض نہیں آیا۔ ظاہر ہے کہ عدت کا معاملہ طلاق کے بعد ہی ہوسکتا ہے اورجب تک نکاح صحیح نہ ہو تو طلاق کا کوئی احتمال ہی نہیں، اس لیے اس آیت نے نابالغ لڑکیوں کے نکاح کو واضح طور پر جائز قرار دیا ہے۔
اسی طرح حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ کی شادی(نکاح) چھ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوئی البتہ مباشرت کے حوالے سے اسلام میں یہ قید لگائی گئی ہے کہ اگر لڑکی جماع کی متحمل نہ ہو تو شوہر کو اس سے صحبت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، اور اگر وہ جماع کی متحمل ہو نیز کسی مرض کا اندیشہ بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں شوہر کو اس سے صحبت کرنے کی اجازت ہے۔
صحیح مسلم کتاب النکاح میں ہے:
ترجمہ: ’’ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نکاح کیا مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور میں چھ برس کی تھی اور زفاف کیا مجھ سے (رخصتی کے وقت)میں نو برس کی تھی‘‘
اسی طر ح عظیم محدث امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری (المتوفی 256ھ) نے اپنی جامع صحیح میں باب قائم کیا ہے: (آدمی اپنی نابالغ بچی کا نکاح کر سکتا ہے۔) اس کے بعد سورہ الطلاق کے اسی آیت کا حوالہ دیتے ہویے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے عورت کی بلوغت سے پہلے اس کی عدت تین ماہ مقرر کی۔ (صحیح بخاری، کتاب النکاح)
شادی کے لیے بلوغ کے عمر کی حقیقت:
شرعی اصولوں اور احکام میں یہ حکمت ملحوظ رکھی گئی ہے کہ عام حالات میں ان اصول و احکام کا اطلاق عام مسلمانوں پر ہوسکے۔ تاہم انسانوں کی مختلف استعداد اور مختلف حالات کا لحاظ رکھتے ہوئے شریعت اسلامیہ نے مستثنیات(Exemptions (کا حل بھی پیش کیا ہے۔ لیکن ایسے مستثنیات کو اصولی احکام کادرجہ حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ محض جواز یا رخصت کے درجہ پر ہوتے ہیں۔ مثلا بعض دفعہ یہ مستثنیات حالات سے مشروط ہوتے ہیں۔جیسے نماز کے لیے اصولی طور پر تو پانی سے وضو کرنیکا حکم ہے لیکن اگر پانی نہ مل سکے یا پانی تو دستیاب ہومگر کسی بیماری کی وجہ سے اس کا استعمال نقصان دہ ہو، یا کوئی اور ایسا مانع موجود ہو، جس کی وجہ سے نمازی پانی کیاستعمال پر قادر نہ ہوتومٹی سے تیمم کرسکتا ہے۔ ایسے حالات میں تیمم کرنا رخصت یا جواز ہے۔
یا مثلا شریعت کا اصل حکم یہ ہے کہ ہر بالغ مسلمان رمضان کے روزے رکھے۔ اب اگر کسی مریض کا مرض ایسی شکل اختیار کرچکا ہو کہ ڈاکٹر کے مطابق روزہ رکھنا اس کے لیے نقصان دہ ہے تو وہ کفارہ دیسکتا ہے۔ اب کفارہ کی ادائیگی اصل حکم نہیں ہے بلکہ رخصت ہے اور جواز کے درجہ پر ہے۔
اس طرح کی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ہرمعاملہ میں ہمیں اصولی حکم اور رخصت کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔
اب زیربحث مسئلہ میں اصولی طور پر نکاح کی عمر کیا ہے؟
تو اس کے متعلق واضح بات یہ ہے کہ نکاح کی اصل عمر بلوغت ہی ہے۔ جو اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ آیا اس اصول میں کچھ مستثنیات بھی ہیں یا نہیں؟ بالفاظ دیگر یہ سوال یوں ہوگا کہ آیا بلوغت سے قبل بھی نکاح جائز ہے یا نہیں؟مستثنیات کی تلاش و تحقیق کے لیے ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ نکاح کے مقاصد کیا ہیں؟
اگر کسی کینزدیک نکاح کا مقصد صرف حصول اولاد ہو تو پھر نکاح کی عمر حقیقتاً بلوغت ہی ہے اور اس سے پہلے چونکہ یہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا، لہٰذا قبل از بلوغت نکاح بھی جائز نہیں ہوتا۔
لیکن نکاح کا مقصدصرف حصول اولاد نہیں بلکہ اس کے اور بھی کیی مقاصد ہیں۔ اسلام میں نکاح کا اصل مقصد فحاشی، بے حیائی،زنا سے اجتناب اور اس طرح پاک و صاف معاشرے کا قیام ہے۔اسی لیے کتاب و سنت میں والدین کو بلوغت کے فوراً بعد نکاح کردینے کا حکم دیا گیاہے۔
نکاح کا دوسرا مقصد قریبی رشتہ داروں میں قرابت کے تعلق کو برقرار رکھنا او رموّدت ومحبت کوبڑھانا ہے۔ تیسرا مقصد دینی اخوت کا قیام او راس میں اضافہ ہے۔لھذا نکاح کے ذریعہ کئی طرح کے دینی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی فوائد حاصل ہوتے ہیں اور اسکا مقصد محض جنسی خواہشات کی تکمیل یا حصول اولاد ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے بلند تر مقاصد بھی ہوسکتے ہیں۔
اب نکاح کے مقاصد میں اس تنوع کی وجہ سے ضروری ہے کہ نکاح کی عمر بلوغت میں بھی استثناء موجود ہو۔ اگرچہ اصولی طور پر نکاح کی عمر بلوغت ہے تاہم یہ ہر عمر میں جائز ہے او رجائز ہونا بھی چاہیے۔ اس لحاظ سے اگر ایک طرف نابالغ بچی کا نکاح لڑکے، جوان اور بوڑھے سے جائز ہے تو دوسری طرف ایک لڑکے کا نکاح اپنے سے بہت بڑی عمر کی عورت، مطلقہ بلکہ دو تین بار کی مطلقہ عورت سے بھی جائز ہے۔
اس پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے کہ اگر ایک لڑکی جسمانی بلوغت کے لحاظ سے اور ماہرین طب کے مطابق بھی ۸۱ یا ۶۱ سال سے کم عمر میں شادی کے لیے اہل ہے تو کیا اس لڑکی کو اسکی اور اس کے والدین کی مرضی کے باوجود شادی کے حق سے محروم رکھنا اس کی حق تلفی نہیں ہے؟
۵۵۹۱ء میں حکومت کے مقرر کردہ کمیشن برائے عائلی قوانین کی طرف سے درج ذیل سوال کے جواب میں مولانا سید ابو الاعلی مودودی رحمہ اللہ کے جواب میں بہترین وضاحت موجود ہے۔
سوال: کیا آپ کے نزدیک کم سنی کی شادیوں کو روکنے کے لیے یہ قانون بنانا ضروری ہے کہ شادی کے وقت مرد کی عمر ۸۱ سال سے کم اور عورت کی عمر
۵۱سال سے کم نہ ہو؟
جواب: مولانا مودودی نے فرمایا تھا کہ کمسنی کی شادیاں روکنے کے لیے کسی قانون کی حاجت نہیں۔ اور اس کے لیے 18 سال اور 15 سال کی عمر مقرر کر دینا بالکل غلط ہے۔ ہمارے ملک میں 18 سال کی عمر سے بہت پہلے ایک لڑکا جسمانی طور پر بالغ ہو جاتا ہے اور لڑکیاں بھی 15 سال سے پہلے جسمانی بلوغ کو پہنچ جاتی ہیں۔ ان عمروں کو ازروئے قانون نکاح کی کم سے کم عمر قرار دینے کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں اس سے کم عمر والے لڑکوں اور لڑکیوں کی صرف شادی پر اعتراض ہے۔کسی دوسرے طریقے سے جنسی تعلقات پیدا کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔شریعت اسلام نے اس طرح کی مصنوعی حد بندیوں سے اسی لیے احتراز کیا ہے کہ یہ درحقیقت بالکل غیر معقول ہیں۔اس کے بجائے یہ بات لوگوں کے اپنے ہی اختیار تمیز پر چھوڑ دینی چاہیے کہ وہ کب نکاح کرے اور کب نہ کرے۔ لوگوں میں تعلیم اور عقلی نشونما کے ذریعے سے جتنا زیادہ شعور پیدا ہوگا اسی قدر زیادہ صحیح طریقے سے وہ اپنے اس اختیار تمیز کو استعمال کریں گے اور کمسنی کے نامناسب نکاحوں کا وقوع، جو اب بھی ہمارے معاشرے میں کچھ بہت زیادہ نہیں ہے، روز بروز کم تر ہوتا چلا جائے گا۔ شرعا ایسے نکاحوں کو جائز صرف اس
لیے رکھا گیا ہے کہ بسا اوقات کسی خاندان کی حقیقی مصلحتیں اس کی متقاضی ہوتی ہیں۔ اس ضرورت کی خاطر قانونا اسے جائز ہی رہنا چاہیے اور اس کے نامناسب رواج کی روک تھام کے لیے قانون کے بجائے تعلیم اور عام بیداری کے مسائل پر اعتماد کرنا چاہیے۔ معاشرے کی ہر خرابی کا علاج قانون کا لٹھ ہی نہیں ہے۔(رسائل مسائل)
ایک دوسرا سوال کیا گیا کہ آپ کے نزدیک نکاح کے لیے عمروں کا یہ تعین ازروئقران کریم یا ازروئے حدیث صحیح ممنوع ہے؟
جواب میں مولانا مودودی نے فرمایا کہ نکاح کے لیے عمروں کے تعین کی کوئی صریح ممانعت تو قران و حدیث میں نہیں ہے مگر کمسنی کے نکاح کا جواز سنت سے ثابت ہے اور احادیث صحیحہ میں اس کے عملی نظائر موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو چیز شرعا جائز ہے اس کو آپ قانونا حرام کس دلیل سے کرتے ہیں؟
آپ کا ایک عمر ازروئے قانون مقرر کر دینا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس عمر سے کم میں اگر کوئی نکاح کیا جائے تو آپ اسے باطل قرار دیں گے اور ملک کی عدالت اس کو تسلیم نہ کریں گی۔ کیا اسے ناجائز اور باطل ٹھہرانے کے لیے کوئی اجازت قرآن یا حدیث صحیح میں موجود ہے؟
دراصل یہ طرز سوال بہت ہی مغالطہ آمیز ہے۔تعین عمر صرف ایک ایجابی پہلو ہی نہیں رکھتی بلکہ ساتھ ساتھ ایک سلبی پہلو بھی رکھتی ہے۔ اس کے معنی صرف یہی نہیں ہے کہ آپ نکاح کے لیے محض ایک عمر مقرر کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہے کہ اس عمر سے پہلے نکاح کرنے کو آپ حرام بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اس منفی پہلو کو نظر انداز کر کے صرف یہ پوچھنا کہ کیا اس کا مثبت پہلو ممنوع ہے سوال کو ادھوری شکل میں پیش کرنا ہے۔ سوال کی تکمیل اس وقت ہوگی جب آپ ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھیں کہ کیا ایک عمر خاص سے پہلے نکاح کو ناجائز ٹھہرانے کے حق میں کوئی دلیل قرآن یا کسی حدیث صحیح میں ملتی ہے؟(رسائل مسائل)
اختصار اور اشارات کی صورت میں ان واضح دلائل کی روشنی میں ہمارا موقف یہ ہے کہ شادی کے لیے ۸۱ سال عمر کی تحدید کے حوالے سے موجودہ قانون سازی نہ صرف غیر شرعی ہے بلکہ غیر آئینی بھی ہے کیونکہ آئین کی رو سے ملک میں کوئی بھی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بن سکتا۔ آئین کے آرٹیکل۷۲۲ اور دیگر دفعات اس بارے میں واضح ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس قانون کو خلاف شریعت قرار دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس غیر شرعی اور غیر آئینی قانون سازی کو فی الفور واپس لے اور عدلیہ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ از خود نوٹس کے ذریعے اس غیر آئینی قانون سازی کو کالعدم قرا ر دیدیں۔
٭٭٭٭٭