پیٹ کی چربی شوگر کی اہم وجہ دماغی صحت کیلئے بھی خطرناک قرار

لاہور(نیٹ نیوز )پیٹ کے گرد جمع ہونے والی اضافی چربی صرف دل اور ذیابیطس کے خطرات تک محدود نہیں بلکہ یہ دماغی صحت، یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پیٹ کے اندر اعضاء￿  کے گرد جمع ہونے والی اندرونی چربی مسلسل سوزش، ہارمونز میں تبدیلی اور جسمانی میٹابولزم میں خرابی پیدا کرتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ یادداشت کی کمزوری، ذہنی تنزلی اور ڈیمنشیا جیسے امراض کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔’امیون نیٹ ورک‘ نامی طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق آنتیں صرف ہاضمے کے لیے اہم نہیں بلکہ جسم کے مدافعتی نظام، اعصابی نظام اور میٹابولزم کو بھی منظم کرتی ہیں۔آنتوں میں موجود مفید جراثیم کا مجموعہ دماغ سمیت جسم کے مختلف اعضاء کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق پیٹ کی چربی دو اقسام کی ہوتی ہے، ایک جِلد کے نیچے موجود چربی جبکہ دوسری اندرونی چربی جو جگر، لبلبے اور آنتوں جیسے اہم اعضاء کے گرد جمع ہوتی ہے۔یہی اندرونی چربی زیادہ خطرناک سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ خون میں سوزش پیدا کرنے والے کیمیائی مادے خارج کرتی ہے جو خون کی نالیوں، انسولین کے نظام اور دماغ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔