مریخ کا پانی کہاں گم ہو گیا؟ نئی تحقیق نے حیرت انگیز انکشافات سے پردہ اٹھا دیا

مریخ کا پانی کہاں گم ہو گیا؟ نئی تحقیق نے حیرت انگیز انکشافات سے پردہ اٹھا دیا

سائنسدانوں کی تازہ تحقیق نے مریخ پر پانی کے بڑے حصے کے غائب ہونے کے راز کو مزید واضح کیا ہے۔

 تحقیق کے مطابق مریخ کی قدیم سطح پر وافر مقدار میں پانی موجود تھا، جیسا کہ خشک ندیوں، پانی سے بدلنے والی معدنیات، اور دیگر آثار سے ثابت ہوتا ہے۔ تاہم، وقت کے ساتھ اس پانی کی بڑی مقدار غائب ہو گئی، اور اس عمل کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔2026 میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مریخ پر چھوٹے مگر شدید مقامی طوفان پانی کے بخارات کو اوپری فضا میں پہنچاتے ہیں۔ ایک بار جب یہ بخارات اوپری فضا میں پہنچ جاتے ہیں، تو ہائیڈروجن خلا کی جانب خارج ہو جاتا ہے، جس سے پانی کا مستقل نقصان ہوتا ہے۔ یہ عمل خاص طور پر ان علاقوں میں نمایاں ہے جہاں طوفان زیادہ شدت کے ساتھ آتے ہیں اور مختصر وقت میں بڑی مقدار میں پانی بخارات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق، مریخ کے خشک ہونے کے عمل میں مختصر لیکن شدید موسمی واقعات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، نہ کہ صرف طویل مدتی ماحولیاتی تبدیلیاں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ سیارے کے ماحولیاتی ارتقا اور مریخ کے پانی کے غائب ہونے کے پیچھے چھپے راز کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔یہ تحقیق سائنس جریدے ‘کمیونیکیشن ارتھ اینڈ انوائرنمنٹ’ میں شائع ہوئی ہے اور یہ مریخ کی تاریخی ماحولیاتی صورتحال اور پانی کی تحلیل کے عمل کی تفصیلی وضاحت فراہم کرتی ہے۔