پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے پارٹی قیادت کو چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو خط لکھنے کی ہدایت دے دی ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کی ہدایات اور پارٹی کے اندرونی معاملات پر بات کی۔
چیف جسٹس کو خط لکھنے کی ہدایت
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان نے انہیں ہدایت دی ہے کہ جیل میں ہونے والی زیادتیوں اور غیر قانونی اقدامات کے بارے میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جیل کا نظام ان قوتوں کے تابع ہے جن کا جیل کے نظام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی اور ان کے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ چھ ماہ میں صرف چوتھی بار بچوں سے بات کروائی گئی، جو ایک غیر انسانی رویہ ہے۔
پی ٹی آئی کے تنظیمی امور اور فیصلے
عمران خان نے پارٹی کے تنظیمی امور سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے، جن میں شامل ہیں:
پارٹی میں دوہری ذمہ داریاں رکھنے والوں کو عہدے چھوڑنے کی ہدایت
عمران خان نے واضح کیا کہ جو افراد حکومتی عہدوں پر فائز ہیں، وہ پارٹی عہدے چھوڑ دیں تاکہ تنظیم کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔
عالیہ حمزہ اور شعیب شاہین کو اہم ذمہ داریاں
عمران خان نے عالیہ حمزہ اور شعیب شاہین کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملک بھر میں یونین کونسل (UC) سطح پر پارٹی کو منظم کریں۔
جنید اکبر کی صدارت پر اعتماد
عمران خان نے پارٹی میں جنید اکبر کی صدارت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور ان کی قیادت میں پارٹی تنظیم سازی کی مزید ہدایت دی۔
26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کے خلاف کارروائی
عمران خان نے کہا کہ جو افراد پارٹی کی ہدایات کے خلاف گئے اور 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، ان کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہوگا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
سندھ کے حقوق کے لیے تحریک چلانے کا اعلان
سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ عمران خان کو سندھ کے دورے سے آگاہ کیا گیا، اور عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ کے پانی کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وڈیروں نے سندھ پر کافی راج کر لیا، اب سندھ کے عوام کے حقوق کے لیے پی ٹی آئی میدان میں آئے گی۔
جیل میں موجود دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی صورتحال
سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ عمران خان نے جیل میں موجود دیگر پارٹی رہنماؤں کے حالات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہر روز فسطائیت کے نئے واقعات سامنے آ رہے ہیں، اور پارٹی قیادت کو ان تمام معاملات کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔
شیر افضل مروت کے اخراج کا حتمی فیصلہ
عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ برقرار رکھا جائے گا اور اسے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔
کرکٹ کے معاملات پر اظہارِ افسوس
عمران خان نے پاکستان میں کرکٹ کی موجودہ صورتحال پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ کرکٹ کو غیر پیشہ ور افراد کے حوالے کر دیا گیا ہے، جو کھیل کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی کرکٹ سے جذباتی وابستگی ہے، اور اگر کوئی اسے مذاق سمجھتا ہے، تو وہ درحقیقت عوام کے جذبات کی تضحیک کر رہا ہے۔
پارٹی مکمل متحد ہے، ملک کے اندر کی قوت ہیں
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان کے مطابق پی ٹی آئی مکمل طور پر متحد ہے، اور ہم پاکستان کی اندرونی سیاسی قوت ہیں، کوئی گروہ یا جھتہ نہیں۔ پارٹی اداروں سے الگ ہو کر نہیں، بلکہ ان کے اندر رہ کر جمہوری جدوجہد کرے گی۔
نتیجہ
عمران خان نے جیل میں اپنے حالات، پارٹی تنظیمی معاملات، سندھ کے حقوق، 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف کارروائی، اور کرکٹ کی صورتحال پر واضح ہدایات دی ہیں۔ چیف جسٹس کو خط لکھنے کا فیصلہ ایک اہم اقدام ہوگا، جس کے ذریعے جیل میں ہونے والی مبینہ زیادتیوں کو سامنے لایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی میں نئے تنظیمی فیصلے اور سخت اقدامات کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔