پشاور ہائیکورٹ کا بجلی بلوں میں تفصیل بتائے بغیر ٹیکسوں کی وصولی روکنے کا حکم

بجلی کے بل میں مختلف ٹیکس اور دیگر رقوم شامل کی گئیں لیکن ان کی واضح تفصیل بل پر درج نہیں کی گئی:درخواست گزار کا مؤقف
 پشاور (یواین پی) پشاور ہائیکورٹ نے بجلی کے بلوں میں ٹیکسز کی تفصیل ظاہر کیے بغیر صارفین سے وصولی کے خلاف درخواست پر اہم حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو بجلی کے بل میں ٹیکسز کی مکمل تفصیل فراہم کیے بغیر اضافی ٹیکس وصول کرنے سے روک دیا، عدالت نے اسی نوعیت کی دیگر درخواستوں کو بھی یکجا کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں بجلی کے بل میں مختلف ٹیکسز کی وصولی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کیا، درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرتا ہے، تاہم اگست کے بجلی کے بل میں بغیر کسی واضح وضاحت کے مختلف اضافی ٹیکسز شامل کردیئے گئے۔عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار نے جب بجلی کے بل میں شامل اضافی رقم سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو متعلقہ حکام کی جانب سے اسے بل پر موجود بارکوڈ ڈی کوڈ کرنے کا کہا گیا، بارکوڈ ڈی کوڈ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ بل میں ایکسٹرا ٹیکس اور فردر ٹیکس بھی شامل کیے گئے ہیں، جبکہ اس سے قبل درخواست گزار کے بجلی کے بلوں میں اس نوعیت کے ٹیکسز وصول نہیں کیے گئے تھے۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ بجلی کے بل میں مختلف ٹیکسز اور دیگر رقوم شامل کی گئیں لیکن ان کی واضح تفصیل بل پر درج نہیں کی گئی، جس کے باعث صارف کو یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس سے کس مد میں اور کتنی رقم وصول کی جارہی ہے، عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ بجلی کے بل میں ٹیکسز اور دیگر اضافی واجبات کی واضح تفصیلات فراہم کرنے کے بغیر ان کی وصولی کو روکا جائے۔