بھارت: مندر میں ریپ کے بعد قتل کی 100 سے زائد لڑکیوں کی دفنیاں کرنے والے شخص کو گرفتار

بھارت: مندر میں ریپ کے بعد قتل کی 100 سے زائد لڑکیوں کی دفنیاں کرنے والے شخص کو گرفتار

ویب ڈیسک: بھارت میں کرناٹک کے چھوٹے مذہبی قصبے دھرم استھل (دھرم استھلا) کے صدیوں پرانے منجوناتھ سوامی مندر سے متعلق حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے زبردستی 100 سے زیادہ لڑکیوں کی لاشیں دفن کرنے پر مجبور کیا گیا، جن کا پہلے ریپ کیا گیا اور پھر قتل کر دیا گیا۔یہ الزامات مندر کے مقام اور اس کے مذہبی پس منظر کی وجہ سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پیدا کر گئے۔ منڈر شیو کے اوتار کے طور پر ہندو عقیدت مندوں کے لیے اہم ہے اور روزانہ ہزاروں زائرین یہاں آتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ معاملہ مقامی کمیونٹی اور ریاستی حکومت کے لیے انتہائی سنگین ہو گیا۔حیران کن دعووں کے بعد حکومت نے ان الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی۔ پولیس نے اس شخص کو گرفتار کر لیا ہے تاکہ تحقیقات کے دوران سچائی سامنے آئے اور مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔

اب ایس آئی ٹی کیس کی تفصیلی چھان بین کر رہی ہے کہ آیا اس شخص کے الزامات حقیقت پر مبنی ہیں یا کسی قسم کی مبالغہ آرائی۔ مقامی لوگوں اور مذہبی تنظیموں نے بھی معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور انصاف کی فراہمی کے لیے تعاون کا یقین دلایا ہے۔اس گرفتاری کے بعد حکومت نے کہا ہے کہ تمام قانونی اور سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی قسم کی مزید دھمکی یا انتشار کو روکا جا سکے۔