جب سیاسی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ ہونے جا رہا ہو تو بات چیت ضرور ہونی چاہی: بیرسٹر گوہر

 جب سیاسی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ ہونے جا رہا ہو تو بات چیت ضرور ہونی چاہی: بیرسٹر گوہر

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ جب ایک بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ ہونے جا رہا ہو تو حکومت کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف طاقت کے استعمال کے بجائے ان کی بات سنی جانی چاہیے۔پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سیاسی لوگوں کے خلاف ’’نٹ لانچر‘‘ استعمال کرنے کا وقت نہیں، بلکہ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق سیاسی لوگوں کی شکایات سنی اور مسائل حل کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ’’جنگِ انا‘‘ بن گیا ہے اور حکومت کو اپنی انا ایک طرف رکھتے ہوئے ایسا راستہ نکالنا ہوگا جس سے صورتحال میں سکون پیدا ہو۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نہیں چاہتی کہ عوام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں۔پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت خود کو پرامن قرار دیتی ہے اور اپنے حقوق اور انصاف کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی کی شکایات سنی جائیں اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔بیرسٹر گوہر نے پارٹی کے لانگ مارچ کے پروگرام میں کسی تبدیلی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنا پروگرام پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق پارٹی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور قیادت اسے پرامن رکھنے پر زور دے رہی ہے۔

خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبے کی خودمختاری، عوامی مینڈیٹ، وزیراعلیٰ اور ارکان اسمبلی کا احترام ہونا چاہیے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں ’’غیر اعلانیہ گورنر راج‘‘ کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں اور اختیارات کے استعمال کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ یہ مؤقف ان کا سیاسی دعویٰ ہے، جس کی حکومت کی جانب سے تردید یا مختلف مؤقف سامنے آ سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی پرامن احتجاج کرنا چاہتی ہے اور ریاستی اداروں یا اسلام آباد پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق حکومت کو بھی ایسے تاثر سے گریز کرنا چاہیے کہ لانگ مارچ کے شرکا اداروں کو نشانہ بنائیں گے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جانا چاہیے اور تمام فریقوں کو مذاکرات کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ حالیہ دنوں میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم لانگ مارچ کے معاملے پر حتمی پیش رفت کے بارے میں مختلف دعوے کیے گئے ہیں۔