اسلام آباد: پاکستان نے افغان سرزمین سے ہونے والی مبینہ دہشت گرد کارروائیوں اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی پر ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق اس سے دو روز قبل بھی افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی، جس میں 28 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا مقصد پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور دہشت گرد سرگرمیوں کو روکنا تھا۔پاکستان نے واضح کیا ہے کہ دھمکیاں، تردید یا ذمہ داری سے بچنے کی کوششیں پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کو محدود نہیں کرسکتیں۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی کارروائی کا جواب دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
افغان طالبان حکومت سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ
پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف تمام دشمنانہ سرگرمیاں فوری طور پر بند کرے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔پاکستانی مؤقف کے مطابق افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر، ٹھوس، قابلِ تصدیق اور مستقل کارروائی کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں، دہشت گرد کارروائیوں یا کسی بھی دشمنانہ سرگرمی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا
بیان میں پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کا خواہاں نہیں اور علاقائی امن، مذاکرات اور تعمیری رابطے کے عزم پر قائم ہے۔تاہم پاکستان نے واضح کیا کہ امن اور مذاکرات کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے اور نہ ہی اسے دشمنانہ کارروائیوں کے لیے لامحدود برداشت کا اشارہ تصور کیا جاسکتا ہے۔پاکستان نے کہا کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے پوری قوت اور عزم کے ساتھ اقدامات جاری رکھے گا۔بیان کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے کسی بھی مزید اشتعال انگیز کارروائی کی صورت میں پاکستان کی جانب سے مضبوط اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔