اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں افغانستان کی صورتحال پر منعقدہ اہم مباحثے کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:
"افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیمیں صرف پاکستان کے لیے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔"
افغان سرزمین سے دراندازی اور حملے
عاصم افتخار نے بتایا کہ:پاکستان کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے افغان سرزمین سے مسلسل دراندازی کا سامنا ہے۔افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اور اتحادی افواج کے ہتھیار اب پاکستان پر حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
دہشت گرد تنظیمیں بدستور سرگرم
اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران پاکستان کے مندوب نے نشاندہی کی کہ:"القاعدہ، الخوارج، ٹی ٹی پی اور بلوچ شدت پسند گروہ افغانستان میں بدستور سرگرم ہیں، جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔"انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے۔
پاک افغان مذاکرات میں بھی دہشتگردی کا معاملہ زیر بحث
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاک افغان ایڈیشنل سیکرٹری سطح مذاکرات بھی ہوئے جس میں:دونوں ممالک نے دہشت گردی کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔پاکستان نے زور دیا کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔
دفتر خارجہ کا مؤقف
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق:"افغان سرزمین سے دہشتگرد گروپس نہ صرف پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ علاقائی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔"دونوں فریقین نے تجارت اور ٹرانزٹ تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو کی۔