ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم اس کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جاری تنازع میں مزید شدت آئی تو اس کے اثرات ایران اور مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دوسرے خطے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارے اِسنا کے مطابق کاظم غریب آبادی نے ایشیا میں اعتماد سازی اور باہمی روابط کے فروغ سے متعلق کانفرنس (سیکا) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق خطے میں استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے سفارتی روابط اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، نائب وزیر خارجہ
کاظم غریب آبادی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کو اپنے دفاع، ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے اور ان خطرات کے ذرائع کے خلاف ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ ایران کی ترجیح نہیں، لیکن اگر اس کے خلاف جارحانہ کارروائی کی گئی تو تہران اس کا فیصلہ کن جواب دے گا۔ایرانی نائب وزیر خارجہ کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران اپنے دفاع کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنا ایران کا حق ہے۔
تنازع پھیلنے سے دوسرے خطے بھی متاثر ہو سکتے ہیں
غریب آبادی نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ تنازع جاری رہا اور اس میں مزید شدت پیدا ہوئی تو اس کے نتائج صرف ایران اور مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان کے مطابق کشیدگی میں اضافے کے اثرات دوسرے خطوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں، جس سے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مزید مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ممکنہ وسیع تر اثرات کے بارے میں تشویش رکھتا ہے۔ تاہم، تنازع کے پھیلاؤ سے متعلق یہ انتباہ ایرانی نائب وزیر خارجہ کا مؤقف ہے۔
ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات پر زور
اپنے خطاب میں کاظم غریب آبادی نے ایران کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں اچھے روابط کا خواہاں ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی سلامتی اور دفاع کے حق کو بھی اہم سمجھتا ہے۔ایرانی نائب وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اور وسیع تر تصادم کے خدشات پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کے بیان میں سفارتی تعلقات اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کی خواہش کے ساتھ ایران کے دفاعی مؤقف کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔