وہ اصول جن پر اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی تھی آج محاصرے میں ہیں‘ امن اور ترقی کے ستون بے حسی، عدم مساوات اور سزا سے استثنیٰ کے بوجھ تلے لرز رہے ہیں:سیکرٹری جنرل یو این

 جنگیں نہ رکوا سکے تو یواین کا کیا فائدہ؟ ڈونلڈ ٹرمپ
اسرائیل کے ساتھ قریبی فوجی اور سیاسی تعلقات رکھنے کے باوجود امریکہ غزہ جنگ کے خاتمے کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے،غزہ میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے، ہمیں یہ کرنا ہوگا، ہمیں امن کیلئے مذاکرات کرنا ہوں گے:ٹرمپ
 خودمختار ممالک پر حملے کئے جا رہے ہیں، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، سچ کو دبایا جا رہا ہے، شہروں کے ملبے سے دھواں اٹھ رہا ہے‘غزہ میں قتل و غارت کی تمام حدیں پار ہوگئیں:انتونیو گوتریس کا جنرل اسمبلی سے خطاب
نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے  جب جنگیں نہ رکوا سکے تو اقوامِ متحدہ( یو این) کا کیا فائدہ؟اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حکومت کی کارکردگی کے بھرپور ڈھنڈورے پیٹے اور عالمی ادارے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔اْنہوں نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا  یہ اقوام متحدہ کا کام تھا مگر افسوس ہے کہ مجھے یہ کرنا پڑا، یو این نے جنگیں رکوانے کے لیے کچھ نہیں کیا، وہ اپنے خطاب کے دوران مودی سرکار پر بھی برس پڑے اور بھارتی رویے کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کئی ممالک نے تو اقوام متحدہ  کے رہنماؤں کے فون تک نہیں اٹھائے، جب جنگیں نہ رکوا سکے تو یو این کا کیا فائدہ؟ کھوکھلے الفاظ جنگیں نہیں روکتے، دنیا میں لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ کو نوبیل انعام دیا جانا چاہیے۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار ماہ میں امریکا میں غیر قانونی افراد کی آمد ’صفر‘ ہو گئی ہیجب کہ  بائیڈن انتظامیہ کے دور میں ’ مجنون اور ڈرگ ڈیلرز‘ لاکھوں کی تعداد میں امریکا میں داخل ہوئے، پچھلی انتظامیہ نے ہمارے ملک کو بے پناہ مسائل سے دوچار کیا۔اْن کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل ہم دْنیا کے لیے مذاق بن چکے تھے لیکن آج سعودی عرب، قطر اور یو اے ای امریکا کے قریب آ گئے ہیں، امریکہ میں مہنگائی کم اور سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، امریکا کی معیشت مضبوط اور ہماری سرحدیں محفوظ ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اْن کی حکومت نے سات جنگیں ختم کرائیں، پاکستان، بھارت اور ایران کی مدد سے اسرائیل کی جنگیں رکوا دیں، روس کے تنازعات کو سفارتی طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی فوجی اور سیاسی تعلقات رکھنے کے باوجود امریکا غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے،غزہ میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے، ہمیں یہ کرنا ہوگا، ہمیں امن کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔امریکی صدر نے کہا کہ ہمیں فوراً تمام 20 یرغمالیوں کو زندہ واپس لانا ہے اور 38 یرغمالیوں کی لاشیں بھی واپس چاہتے ہیں، اِن معاملات پر مزید تاخیر ناقابلِ قبول ہے اور اْنہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہیے، یورپی ممالک روس سے گیس اور تیل خریدتے ہیں جو شرمناک ہے جب کہ بھارت اب بھی روس سے تیل خرید رہا ہے۔ٹرمپ نے الزام لگایا کہ حماس نے بار بار ’امن کے معقول مواقع‘ ضائع کردیے یہی وجہ ہے کہ مسئلہ طول پکڑتا گیا،اگر میں صدر ہوتا تو غزہ اسرائیل اور روس یوکرین جنگیں شروع نہ ہوتیں۔اْنہوں نے اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی پالیسی پربھی تنقید کرتے ہوئے کہا گلوبل وارمنگ سب کو مار دے جب کہ امریکی صدر نے گرین انرجی منصوبے کو دھوکا قرار دیا۔قبل ازیںمیں سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے دنیا کے بڑھتے ہوئے بحرانوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ 80 سال پہلے درجنوں ممالک نے دنیا میں امن کے لیے اقوام متحدہ کو تشکیل دیا تھا۔انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ دنیا میں قیام امن اور انسانیت کی بقا کے لیے ایک موثر اور اجتماعی حکمت عملی کے طور پر کام کرتی ہے۔ وہ اصول جن پر اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی تھی آج محاصرے میں ہیں۔ امن اور ترقی کے ستون بے حسی، عدم مساوات اور سزا سے استثنیٰ کے بوجھ تلے لرز رہے ہیں۔ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جو غیر ذمے دارانہ خلفشار اور مسلسل انسانی تکالیف سے عبارت ہے۔خودمختار ممالک پر حملے کیے جا رہے ہیں، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، سچ کو دبایا جا رہا ہے، اور شہروں کے ملبے سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ غزہ میں ہولناکیاں جاری ہیں اور وہاں قتل و غارت کا دائرہ تمام حدیں پار کر چکا ہے۔ غزہ پر عالمی عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ غزہ میں مستقل جنگ بندی اور فوری طور پر یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی صلاحیتوں کو "کمزور" کرنے کی منظم کوششیں کی جاری ہیں جس سے عالمی امن اور ترقی کے اہداف شدید خطرے سے دوچار ہیں۔