پاکستان میں گزشتہ 3 سال میں غربت کی شرح میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے‘ غربت میں کمی، کمزور طبقات کے تحفظ کے لئے اصلاحات کی ضرورت ہے
غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں کوویڈ-19، مہنگائی، سیلاب اور میکرو اکنامک د بائو کے علاوہ کھپت پر مبنی ترقیاتی ماڈل بھی ہے :رپورٹ
اسلام آباد (آئی این پی )عالمی بینک کا کہنا ہے پاکستان میں گزشتہ 3 سال میں غربت کی شرح میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے،پاکستان کو غربت میں کمی، کمزور طبقات کے تحفظ کیلئے اصلاحات کی ضرورت ہے ۔عالمی بینک نے جاری اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں قومی غربت کی شرح جو 2001-02 میں 64.3 فیصد سے مسلسل کم ہو کر 2018-19 میں 21.9 فیصد تک آگئی تھی، 2020 سے دوبارہ بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات مختلف جھٹکے ہیں، جن میں کوویڈ-19، مہنگائی، سیلاب اور میکرو اکنامک دبا ئو شامل ہیں ،لیکن اس کی ایک وجہ وہ کھپت پر مبنی ترقیاتی ماڈل بھی ہے، جس نے ابتدائی کامیابیاں تو دیں لیکن اب اپنی حد کو پہنچ چکا ہے۔ری کلیمنگ مومنٹم ٹو ورڈز پراسپیرٹی: پاکستان کی غربت، ایکوٹی اور ریسائلنس اسیسمنٹ کے نام سے جاری کردہ یہ رپورٹ 2000 کی دہائی کے اوائل کے بعد سے پاکستان میں غربت اور فلاحی رجحانات کا پہلا جامع تجزیہ ہے۔اس مسئلے کے حل کے لئے رپورٹ میں غریب اور کمزور خاندانوں کے تحفظ، روزگار کے مواقع میں بہتری اور بنیادی خدمات تک سب کی رسائی کو بڑھانے کے لئے پائیدار اور عوام مرکوز اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔جائزے سے معلوم ہوا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں غربت میں کمی کی بڑی وجہ غیر زرعی محنتانہ آمدنی میں اضافہ تھا، کیوں کہ زیادہ گھرانے کھیتی باڑی چھوڑ کر کم معیار کی خدمات کی ملازمتوں کی طرف منتقل ہوگئے تھے۔سست اور غیر متوازن ڈھانچہ جاتی تبدیلی نے متنوع معیشت، روزگار کے مواقع اور شمولیتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی، اس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں کم پیداواری صلاحیت نے آمدنی کے بڑھنے کو محدود کیا، اب بھی 85 فیصد سے زائد ملازمتیں غیر رسمی ہیں اور خواتین اور نوجوان بڑی حد تک لیبر فورس سے باہر ہیں۔