واشنگٹن (آئی این پی )ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک میں چھاتی اور سرویکل کینسر میں مرض کے آغاز میں بیماری کا پتہ لگانے کی شرح بہت کم ہے۔ یہ تحقیق معروف طبی جریدے دی لینسٹ میں شائع ہو ئی ہے ۔طبی جریدے کا کہنا ہے کہ غریب ممالک میں صرف 20 فیصد کیسز میں بیماری کے آغاز میں اس کی تشخیص ہوتی ہے جبکہ دنیا کے امیر ممالک میں ہر پانچ مریضوں میں سے دو مریضوں میں چھاتی اور سرویکل کینسر کی تشخیص ابتدائی سطح پر ہو جاتی ہے۔تحقیق کے مطابق کم آمدن والے ممالک میں ان دونوں کینسرز کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب عموما یہ اگلی سٹیج میں داخل ہو جاتے ہیں اور مریض کے مکمل صحتیاب ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے۔اس تحقیق کے لیے وینس کینسر پراجیکٹ کے تحت ریسرچرز نے 39 ممالک سے تعلق رکھنے والی دو لاکھ 75 ہزار خواتین کا ڈیٹا جمع کیا۔جس میں بین الاقوامی گائیڈ لائنز کے تحت تشخیص اور علاج کے ٹرینڈز کا معائنہ کیا گیا۔ریسرچرز کا کہنا ہے کہ صحت کے بنیادی مراکز کی کمی، سکرینگ کی سہولیات کی عدم موجودگی اور معاشرتی رویوں کے سبب ترقی پذیر ممالک میں کینسر کی تشخیص تاخیر سے ہوتی۔