غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری، مزید 111 فلسطینی شہید، انسانی بحران شدت اختیار کر گیا

غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری، مزید 111 فلسطینی شہید، انسانی بحران شدت اختیار کر گیا

غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں مزید 111 فلسطینی شہید اور 820 سے زائد زخمی ہو گئے، جبکہ صرف آج صبح سے اب تک کے فضائی حملوں میں 65 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

ہلاکتوں اور زخمیوں کے تازہ اعدادوشمار
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 60 ہزار 332 جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 47 ہزار 643 ہو چکی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق زخمیوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ اسپتال زخمیوں کے علاج کی سہولیات اور طبی سامان کی کمی کا شکار ہیں۔

قحط اور بھوک سے ہلاکتیں
غزہ میں جاری جنگ کے ساتھ ساتھ انسانی بحران بھی سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ غذائی قلت کے باعث مزید 7 افراد جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد قحط اور بھوک سے مرنے والوں کی تعداد 154 تک پہنچ گئی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق علاقے میں خوراک اور ادویات کی شدید کمی نے لاکھوں شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔

بین الاقوامی ردعمل
بین الاقوامی دباؤ کے باوجود جنگ بندی ممکن نہیں ہو سکی۔ فرانس نے غزہ کے لیے 40 ٹن ہنگامی امداد بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کے مطابق یہ امداد اردن کے راستے بھیجی جائے گی، جس میں 10 ٹن امداد پر مشتمل چار پروازیں شامل ہوں گی۔ تاہم انہوں نے اس امداد کو موجودہ بحران کے مقابلے میں ناکافی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مزید اقدامات کی اپیل کی۔

صورتحال کی سنگینی
غزہ میں تباہ حال بنیادی ڈھانچے، بند راستوں اور شدید بمباری نے لاکھوں شہریوں کو قید کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے ادارے فوری جنگ بندی اور ہنگامی امداد کی فراہمی پر زور دے رہے ہیں، مگر زمینی صورتحال میں بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔