بھارت 24 کروڑ عوام کا پانی بند کرنے کی حماقت نہیں کر سکتا ، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان اور بھارت میں امن ممکن نہیں :ڈی جی آئی ایس پی آر

 بس حملے میں  فتنہ   الہندوستان ملوث دہشتگردوں کو خطرناک نتائج بھگتنا ہونگے:ترجمان پاک فوج
 ماہ رنگ بلوچ اور ان کی بلوچستان یکجہتی کونسل دہشت گردی کی پراکسی ہیں،  ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گاجو کوئی بھی سٹیٹ دہشت گردوں کے ساتھ کرتی ہے‘یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے ، اس میں کوئی شک نہیں

بھارت بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے ‘  ‘ دشمن سے پاکستان کی معاشی ترقی ہضم نہیں ہو رہی ، پاکستان نے دہشتگردوں کے لئے اپنی سر زمین تنگ کر دی ہے :لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی سیکرٹری داخلہ کیساتھ پریس کانفرنس

راولپنڈی(آئی این پی ) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ترجمان  لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری  نے  کہا ہے  بھارت 20 برس سے ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق خضدار میں سکول بس حملے میں فتنہ  الہندوستان ملوث ہے، خضدار میں 21 مئی کو فتنہ الہندوستان نے بھارت کے حکم پربچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا، فتنہ  الہندوستان جان بوجھ کر معصوم اور نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنارہاہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل اور وفاقی سیکرٹری داخلہ آئی ایس پی آر کی اہم پریس کانفرنس  کی گئی ۔پریس کانفرنس کی ابتدا کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ خرم آغا نے کہا کہ خضدار میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا، سکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا یہ حملہ  سکول پر نہیں ہماری اقدار پر حملہ تھا۔وفاقی سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ  میں فتنہ الہندستان ملوث ہے جو ہارڈ ٹارگٹ میں ناکامی کے بعد سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنارہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری  نے کہا کہ بھارت 20 برس سے ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے، بھارت خطے کا امن خراب کررہا ہے، 2009 میں پاکستان نے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد پر مبنی ڈوزیئر اقوام متحدہ کو پیش کیا تھا۔اس موقع پر انہوں نے خضدار واقعہ  میں شہید ہوئے سکول کے بچوں کی تصاویر اور کچھ ویڈیو بھی دکھائیں۔انہوں ںے کہا کہ ہم نے 2016 میں بھی دہشت گردی کے ثبوت یو این او کو دیئے  تھے، بھارت دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کرتا ہے ،مختلف واقعات میں گرفتار دہشت گردوں نے بھارت کے ان واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے، خضدار واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے جس میں بھارت کے حکم پر یہ واقعہ کیا گیا اور فتنہ الہندوستان بھارت کے حکم پر بچوں، مسافروں اور معصوم لوگوں کو شہید کرتا ہے۔اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں ہوئے دہشت گردی کے واقعات تاریخ وار بیان کیے جن میں مزدور کو شہید کیا گیا، متعدد واقعات میں لوگوں کو بسوں سے اتار کر مارا گیا،دھماکے کئے  گئے، حملے کئے  گئے، فتنہ الہندوستان کا تعلق کسی بلوچ قوم یا اسلام سے نہیں صرف ہندوستان سے ہے، بھارت ان کے ذریعے پورے بلوچستان میں دہشت گردی کرارہا ہے۔انہوںنے کہا کہ بھارت میں میڈیا آزاد نہیں وہاں اسٹیٹ میڈیا کنٹرول ہے، نام نہاد جمہوری ملک بھارت میں آزادی صحافت کا یہ حال ہے۔انہوں نے کہا کہ 11 مئی کو بھارت نے بی ایل اے کے دہشت گردوں سے بیان جاری کرایا، بی ایل اے کے لوگ بھارتی ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں، کیا ہم بی ایل اے کی دھمکیوں سے ڈر جائیں گے؟ دہشت گردوں کے سامنے پاکستان کی مسلح افواج سینہ ٹھوک کر کھڑی ہیں۔انہوں نے عدیلہ بلوچ کا ویڈیو بیان پیش کیا جسے خودکش حملہ آور بنایا گیا تھا مگر وہ پکڑی گئی، عدیلہ بلوچ نے بتایا کہ اسے بلیک میل کیا گیا۔صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے ناسور کے خلاف اسپیس کو squeez کرنا شروع کیا ہے اس کی آپ کو بہت سی نشانیاں نظر آتی ہیں، میں نے آپ کو ایک نشانی دکھائی کہ ابھی پانچواں مہینہ چل رہا ہے اس سال ہم صرف بلوچستان میں 200 سے زیادہ دہشت گرد مار چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے صرف ایک ہندوستان کی خطے میں اجارہ داری کی خواہش ہے کیوں کہ وہ خطے کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے خاص طور پر  وہ پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، اس کے لیے وہ پیسہ لگاتا ہے اور اس کے ثبوت سب کے سامنے ہیں۔ لہذا بے فکر رہیں، آپ اور ہم سب مل کر ان دہشت گردوں کو ختم کردیں گے اور ہم نے کرنا ہے، اس کے بغیر گزراہ نہیں ۔ اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا  کہ میڈیا کا اس پورے معاملے میں بہت اہم کردار ہے۔ اسے بی وائی سی کی ماہ رنگ بلوچ جیسے کرداروں کے چہرے سے نقاب اتارنا چاہیے۔ یہ جو انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، تو انہیں جان لینا چاہیے کہ دہشت گردوں کا  نہ تو انسانیت سے تعلق ہے نہ  مذہب اور انسانی حقوق سے۔ یہ لوگ جن لاپتہ  افراد کی تصاویر اٹھائے پھرتے ہیں، ان میں سے بیشتر ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے ڈی این اے سے ثابت ہو جاتے ہیں۔ یہ سب دنیا کے سامنے کھل کر آ چکا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ اور ان کی بلوچستان یکجہتی کونسل دہشت گردی کی پراکسی ہیں، اور ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گاجو کوئی بھی سٹیٹ دہشت گردوں کے ساتھ کرتی ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے ، اس میں کو