''رکشہ والا بھی ہیں انسان''

 سدرہ شیخ
دور جدید میں جہاں دنیا نے ترقی کی جہاں شعور نے آسمان کی بلندیوں کو چھوا جہاں شعور نے اپنا سکہ منوایا وہیں ہماری ترقی و کامرانی ہماری کامیابی نے ہم سے بڑے چھوٹے کی تمیز چھین لی خاص کر کسی غریب کو دیکھ کر عزت کرنے کی تمیز چھین لی۔۔
آج میں بات محض کسی غریب پر نہیں بلکہ ایک رکشہ ڈرائیور پر کرنے والی ہوں۔
ہمارے ماحول کا حصہ ہیں یہ چنگ چی رکشہ والے ہمارے روز مرہ کی زندگی کتنا بوجھ اپنے کندھوں پر لادے ہوئے ہیں ان چنگ چء رکشہ ڈرائیوروں کی وجہ سے وہ طبقہ بھی بآسانی سفر کرتا ہے جن کے وسائل نہیں ہیں لگثری گاڑیوں میں سفر کرنے کے۔۔
وہ طبقہ جسے ہم مڈل کلاس طبقہ کہتے ہیں۔۔ میں پچھلے دو سال سے سفر کررہی ہوں اس چنگ چء رکشہ پر اور میں نے کبھی روڈ پر کبھی کسی چوک چوراہے پر کبھی کسی گلی محلے پر اس رکشہ ڈرائیور کے ساتھ ہوتی ہوئی زیادتیاں نوٹ کی ہیں۔۔
آپ سیدھی ڈائریکشن پر بھی ہیں تو آپ کے سامنے کوئی بڑی گاڑی والا اپنی گاڑی پیچھے نہیں کرتا بلکہ آپ کو غیر مہذب جملے کہہ کر گاڑی پیچھے کرنے کا کہتا ہے
جہاں ٹریفک سگنل پر موجود  ٹریفک وارڈن کسی گاڑی          تو نہایت شریفانہ طریقہ سے بتاتا ہے کہ کہاں جانا ہے کہاں نہیں کیسے ڈائریکشن دیتا ہے۔۔ مگر کسی چنگ چء رکشے کو جیسے ہی دیکھتے ہیں ڈنڈے برسانا شروع کردیتے ہیں ہم مڈل کلاس لوگ اپنی روز مرہ زندگی میں یہ ناانصافی دیکھتے ہیں۔۔ لیڈیز بیٹھی بھی ہوں گی تو وارڈن ایسی گالیان دیتا ہے چنگ چی ڈرائیور کو اور شروع ہوجاتا ہے ڈنڈے مارنا یہ انسانیت نہیں یہ اخلاقیات نہیں اور نہایت معذرت کے ساتھ یہ کوئی قانونیت بھی نہیں جو آپ کا قانون آپ کو مجبور کردے کہ گاڑی والے کے ساتھ کیسے پیش آنا اور رکشے والے کے ساتھ کیسے۔۔
''کل ایک واقعہ ہوا کہ ہم نے گھر جانے کے لیے رکشہ ہائیر کیا چنگ چی رکشہ شیخوپورہ شہر کے علاقہ طارق روڈ جانا تھا اپنے گھر۔۔۔ وہاں گلی کے کارنر پر ایک بڑے گھر کے باہر ایک ادمی گاڑی پارک کرتے کرتے رک گیا اور رکشے کیا رستہ بھی روک لیا اور جب رکشے والے نے ہارن دیا تو وہ ادمی کہنے لگا دوسرا رستہ لے لو۔۔
تو رکشے والا بھائی کہتا ہے بھائی جان اسی گلی میں گھر میں جانا ہے''
گاڑی والے آدمی نے کچھ سیکنڈ دیکھا اور کہا تیرا کہڑا گھر ہے ایتھے۔۔؟''
رکشے والا بھائی چپ ہوگیا تو میں نے کہا آپ کو اس سے کیا غرض کہ گھر ہو یا نا ہو۔۔ آپ نے گلی خریدی ہوئی ہے۔۔؟''
اسکے بعد رکشے والے بھائی سے کہا کہ آپ کو کیا ضرروت ہے وضاحتیں دینے کی۔۔؟
وہ کہتے باجی یہ ہماری روز کی روٹین ہے''
ہمارے ملک میں یہ وضاحتیں اس طبقے کے ذمہ آئی ہیں جو سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔۔''
پاکستان میں ہر گھر میں نہ سہی مگر ہر دوسرے گھر میں ایک رکشہ ڈرائیور ضرور ہوتا ہیوہ جو اپنے گھر کا عزت دار سربراہ ہوتا ہے مگر عزت کی روزی روٹی کمانے کے لیے وہ ہر چوک چوراہے پر بے عزتی کرواتا ہے اپنی کیونکہ وہ رکشہ ڈرائیور ہوتا ہے
وہ تو چلیں بے عزت ہوتا ہے روزی روٹی کمانے کے لیے۔۔ مگر کبھی خود سے سوال کریں آپ کیوں کرتے ہیں بے عزتی آپ کیوں عزت نہیں دیتے رکشہ ڈرائیوروں کو۔۔؟؟
کیا رکشہ ڈرائیور انسان نہیں۔۔؟؟ کیا وہ چوری کرتے ہیں یا کسی کی حق تلفی کرتے ہیں۔۔؟؟
آپ کو خواتین کو کالج بچے بچیوں کو باعزت با حفاظت طریقے سے گھر کی دہلیز تک چھوڑنے والا رکشہ ڈرائیور زرا سی عزت کا حق دار نہیں ہے۔۔؟؟
خود سے پوچھیں اور بتائیے گا۔