ڈاکٹر سیدہ سمعیہ ولی (انگلینڈ)
اسلامی تاریخ کا روشن باب:اسلامی تاریخ جن عظیم ہستیوں کے تذکرے سے منور ہے، ان میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا مقام نہایت بلند اور منفرد ہے۔ آپ نہ صرف رسولِ اکرم کے چچا زاد بھائی تھے بلکہ داماد بھی تھے، آپ کی آغوشِ تربیت میں پرورش پائی، ایمان لانے والوں میں سب سے پہلے یا اوائل میں شامل ہوئے، اور تاحیات اسلام کے لیے اپنی جان، علم اور کردار کا نذرانہ پیش کرتے رہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات علم و حکمت، شجاعت و عدالت، تقویٰ و زہد اور وفا و قربانی کا جامع نمونہ ہے۔
نسب، ولادت اور قبولِ اسلام:حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نسب رسول اللہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کی ولادت عام الفیل کے تقریباً تیس برس کے بعد ہوئی۔ یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے بچپن ہی میں توحید کو قبول کیا اور کبھی بت پرستی کی آلودگی کو اپنے دامن تک نہ آنے دیا۔ رسول اللہ نے جب نبوت کا اعلان فرمایا تو سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نمایاں تھے۔ اس کم سنی میں ایمان لانا آپ کی فطری پاکیزگی اور حق شناسی کا واضح ثبوت ہے۔رسول اللہ کے ساتھ خصوصی تعلق:حضرت علی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ کے ساتھ تعلق محض رشتہ داری تک محدود نہ تھا بلکہ روحانی، اخلاقی اور علمی اعتبار سے بھی آپ کے سب سے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ نبی کریم نے فرمایا:میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔(ترمذی)
یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علمی مقام و مرتبے کو واضح کرتی ہے۔ آپ نے متعدد مواقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت و محبت کا اعلان فرمایا، حتیٰ کہ غزوہ تبوک کے موقع پر فرمایا:اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے، سوائے اس کے ’’کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔(بخاری و مسلم)
شجاعت و بہادری:حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت ضرب المثل ہے۔ غزوات میں آپ کی تلوار "ذوالفقار" نے اسلام کے دشمنوں کے دلوں پر لرزہ طاری کر دیا۔ غزوہ بدر، اْحد، خندق اور خیبر میں آپ کے کارنامے تاریخِ اسلام کا سنہرا باب ہیں۔ غزوہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ نے فرمایا:کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔یہ جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا اور خیبر فتح ہوا۔یہ شجاعت محض جسمانی قوت نہیں تھی بلکہ ایمان، یقین اور اللہ پر توکل کا مظہر تھی۔
علم و حکمت کا سرچشمہ:حضرت علی رضی اللہ عنہ علم و حکمت کے ایسے مینار تھے جن سے صدیوں تک روشنی پھوٹتی رہی۔ آپ قرآن کے مفسر، حدیث کے ماہر اور فقہِ اسلامی کے عظیم ستون تھے۔ خلفائے راشدین کے دور میں بڑے بڑے مسائل میں آپ کی طرف رجوع کیا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ’’اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا‘‘۔
آپ کے اقوالِ زریں آج بھی اخلاق، سیاست، عدل اور روحانیت میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ کتاب نہج البلاغہ میں محفوظ آپ کے خطبات اور اقوال اسلامی فکر کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔زہد، تقویٰ اور سادگی:حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی زہد و تقویٰ کی عملی تصویر تھی۔ خلافت کے باوجود آپ کا طرزِ زندگی انتہائی سادہ تھا۔ بوسیدہ کپڑے، خشک روٹی اور معمولی خوراک آپ کا معمول تھا۔ بیت المال کے معاملے میں سخت ترین احتیاط برتتے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے بھی کوئی امتیاز روا نہ رکھتے۔ ایک مرتبہ اپنے بھائی عقیل رضی اللہ عنہ نے بیت المال سے زائد رقم طلب کی تو آپ نے سختی سے انکار فرمایا اور عدل کی اعلیٰ مثال قائم کی۔عدل و انصاف:حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نظامِ حکومت عدل و انصاف پر مبنی تھا۔ آپ نے قاضیوں، گورنروں اور حکام کو تقویٰ، دیانت اور عوامی خدمت کی سختی سے تلقین فرمائی۔ آپ کا فرمان ہے:حکومت کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہے، مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔یہ اصول آج بھی ریاستی نظام کے لیے ایک عالمگیر ضابطہ ہے۔
اہلِ بیت سے محبت اور امت کی وحدت:حضرت علی رضی اللہ عنہ اہلِ بیت کے سردار اور امتِ مسلمہ کے عظیم رہنما تھے۔ آپ نے ہمیشہ امت کی وحدت، صبر اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دی۔ خلافت کے ابتدائی دور میں پیش آنے والے فتنوں کے باوجود آپ نے حق، عدل اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔شہادت اور دائمی پیغام:رمضان المبارک 40 ہجری کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ میں حالتِ نماز میں شہید کر دیا گیا۔ آپ کی شہادت امت کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی، مگر آپ کا پیغام آج بھی زندہ ہے: عدل، علم، تقویٰ، شجاعت اور حق پر استقامت۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اسلام کی عظیم اور ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ آپ رسول اللہ کے چچا زاد بھائی، داماد اور اوّلین ایمان لانے والوں میں شامل تھے۔ شجاعت، علم، تقویٰ اور عدل آپ کی نمایاں صفات ہیں۔ غزوات میں بے مثال بہادری دکھائی اور علم و حکمت میں بلند مقام حاصل کیا۔ خلفائے راشدین آپ کی رائے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ خلافت کے دور میں عدل، سادگی اور عوامی خدمت کو شعار بنایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرت آج بھی حق، انصاف اور اسلامی قیادت کا روشن نمونہ ہے۔