جنگ افغانستان نہ ہی پاکستان کیلئے مفید ،سیاسی اختلاف ہے مگر نواز شریف کے لیے احترام آج بھی ہے، نوازشریف کا کردار نظر نہیں آرہا
جمہوریت شکست کھائے گی تو پھر انتہاپسندی کامیاب ہوگی، جے یوآئی اور پی ٹی آئی میں تلخ ماحول اعتدال کی طرف جا رہا ہے، سربراہ جے یوآئی
اسلام آباد (آئی این پی )سربراہ جمعیت علما اسلام (ف )مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ جنگ کا خطرہ ہے یا نہیں اس پر مزید سوچنے کی ضرورت ہے، جنگ نہ افغانستان نہ ہی پاکستان کیلئے مفید ہے،سیاسی اختلاف ہے مگر نواز شریف کے لیے احترام آج بھی ہے، نوازشریف کا کردار نظر نہیں آرہا۔ایک انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے حوالے سے ایک تاریخ ہے اور ریاستی غلطیوں کا بہت عمل دخل ہے، روس کے خلاف جہاد امریکا آیا تو جہاد نہیں ، جہاد قرآن پاک کا حکم ہے،اس کے لیے حکمت عملی چاہیے ہے۔سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اسلامی دنیا کی جغرافیائی تقسیم کو دنیا نے تسلیم کیا ہوا ہے، اس وقت ہم جہاد کے حامی تھے ، تضاد سابق صدر پرویز مشرف کی امریکا کو سپورٹ کی وجہ سے آیا، افغان جنگ میں پاکستان کی پوزیشن بین الااقوامی گروپنگ کی تھی، اس سپورٹ کے ہم پر منفی اثرات پڑے ہیں اس پر بات ہونی چاہیے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مکتبہ فکر کو مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے، جنہوں نے اسلحہ اٹھا لیا ہے وہ اپنے طور پر ذمہ دار ہیں ، مسلک ذمہ دار نہیں ہے، پاکستان میں کوئی مسلکی تنازعات اور تصادم نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ جنگ کا خطرہ ہے یا نہیں اس پر مزید سوچنے کی ضرورت ہے، جنگ نہ افغانستان کے لیے مفید ہے نہ پاکستان کیلئے مفید ہے، افغانستان اور امن وامان کے حوالے سے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے، حکمران ان تمام معاملات پر سوچیں اور تمام جماعتوں کو بلا لیں۔ ہم امن وامان چاہتے ہیں ، جنگ کا مشورہ نہیں دیں گے، یہ سوال جن سے پوچھنا چاہیے ان تک رسائی نہیں ، ابھی بھی ہم ان کی پوری حکمت عملی سے آگاہ نہیں ، حکومت کی ذمہ داری ہے وہ ہمیں امن دے ، نہ طاقت کے استعمال کا نتیجہ آ رہا ہے نہ بات چیت کا ، خلا تو ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی کا بھی رول ختم نہیں کرنا چاہیے ،سیاسی اختلاف ہے مگر نواز شریف کے لیے احترام آج بھی ہے، نوازشریف کا کردار نظر نہیں آرہا بالکل ہی سین سے غائب ہوگئے ہیں۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ جمہوریت شکست کھائے گی تو پھر انتہاپسندی کامیاب ہوگی، ہم نے پہلے بھی اکیلے تحریک چلائی تھی۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جے یوآئی اور پی ٹی آئی میں تلخ ماحول اعتدال کی طرف جا رہا ہے، یہ اچھا رویہ ہے اسے قائم ہونا چاہیے ، ہمیشہ قائم رہنے کی امید رکھ رہا ہوں، محدود وقت اور فائدہ کے لیے دوستی رکھوں یہ نہیں رہے گا، بانی پی ٹی آئی کا رول سیاست میں کیا ہے انہوں نے خود طے کرنا ہے، سیاست میں بیٹھ کر بات کرنے اور سمجھنے کی گنجائش رکھنی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی نے اپنی جنرل کونسل کا اجلاس اپریل میں بلا لیا ہے، اس اجلاس میں ہم صورتحال رکھ کر مستقبل کی پالیسی کی منظوری لیں گے۔