بھارت سندھ طاس معاہدے پر عمل کرے یا جنگ کیلئے تیار رہے بلاول بھٹو

 پاکستان جنگ کرے گا توتمام 6 دریا پاکستان کے ہوں گے‘امریکہ  کے ایران پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اسرائیل نے جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا،  اسرائیل امریکی عوام کو جنگ میں دھکیل رہا ہے، امریکی عوام جنگ کی حمایت نہیں کر رہے

 اسرائیل جنگ کا تدبر اور تحمل کے ساتھ حل نکالا جائے‘معیشت کو بچانے کیلئے کسانوں کو مل کر ریلیف دینا ہوگا  سمارٹ ایری گیشن کے ذریعے پانی کو چولستان اورتھر کے علاقوں تک پہنچا سکتے ہیں:چیئرمین    پیپلزپار ٹی    کا قومی اسمبلی میں  اظہار خیال 
اسلام آبا د(آئی این پی )چیئرمین پاکستان پیپلزپار ٹی  بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے  بھارت سندھ طاس معاہدے پر عمل کرے یا جنگ کیلئے تیار رہے، پانی پر جنگ لڑنا پڑی تو اگلی جنگ بھی جیتیں گے، ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کی مذمت کرتے ہیں، صیہونی ریاست سب سے پہلے فلسطین کی طرف بڑھی، دنیا نے آواز نہیں اٹھائی، اس کے بعد وہ لبنان کی جانب گئے، ہم نے آواز نہیں اٹھائی کیونکہ ہم لبنانی نہیں ہیں، اس کے بعد اسرائیل نے یمن پر حملے کیے ہم نہیں بولے کیونکہ ہم یمنی نہیں ہیں،  اب اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کر دیئے ہیں، اگر ہم نے اب بھی آواز نہیں اٹھائی تو اس وقت کچھ بھی نہیں بچے گا جب وہ ہماری جانب آئیں گے، نیتن یاہو جنگوں کو بڑھاوا دے کر ورلڈ وار 3 کے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ان  خیالات کااظہار انہوں نے پیر کو  قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پربحث  کے دوران  اظہار خیال کرتے ہوئے  کیا ۔  بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بھارت نے پہلگام دہشت گردی کے واقعہ کے بعد سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا کہا، پانی روکنے کی دھمکی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اگر پانی روکا گیا تو ہمیں جنگ لڑنا پڑے گی، ہم جانتے ہیں ہماری افواج، ایئرفورس بالکل تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب بھارت کے پاس دو ہی آپشنز ہیں، سندھ طاس معاہدہ مان لے، اگر خلاف ورزی کرے گا تو تمام 6 دریا پاکستان کے ہوں گے، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی مودی کے حق میں بہتر ہوسکتی ہے، لیکن معاہدے پر عملدرآمد پاکستان اور بھارتی عوام کیلئے اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی کوشش تھی کہ پاکستان کو باقاعدہ دہشت گرد ریاست ڈکلیئر کرایا جائے، بھارت نے کوشش کی پاکستان کو آئی ایم ایف کا پیکج نہ ملے، ہر محاذ پر پاکستان جیتا اور بھارت ہارا، ہم نے اقوام متحدہ کے فورم پر اپنا موقف پیش کیا، پاکستان کی وزارت خارجہ اور سفیروں کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں۔چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ بھارت کی پوری کوشش تھی جنگ کے نتیجے میں پاکستان کو وائٹ سے دوبارہ گرے لسٹ میں ڈالا جائے لیکن اس میدان میں بھی دشمن کو شکست ہوئی،آدھی سے زیادہ دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا ہاتھ ہوتا ہے، یہ مودی کا فیصلہ ہوسکتا ہے کہ اپنا مستقبل ان دہشت گردوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا، ہم دہشت گردوں کے خلاف اپنے ساتھ ساتھ بھارتی عوام کا بھی مقدمہ لڑسکتے ہیں، خطے کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان   امن  قائم کیا جائے۔مشرقی وسطی میں بڑھتی کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ امریکا کے ایران پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اسرائیل نے جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا، الزام لگایا گیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب ہے، ایران پر کئی سال سے جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران میں لیڈر شپ اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا، ایران کی جوہری تنصیبات پر مہنگا ترین حملہ کیا گیا، ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے خطے کے عوام کی زندگیوں کو دا پر لگایا گیا، ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، سلامتی کونسل میں بھی امریکا کے ایران پر حملے کی مذمت کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل امریکی عوام کو جنگ میں دھکیل رہا ہے، امریکی عوام اس جنگ کی حمایت نہیں کر رہے، پہلے وہ لبنان آئے، یمن آئے اور اب ایران آگئے، اگر ہم اب نہ بولے تو جب وہ ہم پر آئیں گے تو کوئی بولنے والا نہیں ہوگا، اسرائیل کی رجیم کو روکنا ہوگا، ایران اسرائیل جنگ کا تدبر اور تحمل کے ساتھ حل نکالا جائے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارے خطے میں بھی ایک نیتن یاہو کی سستی کاپی موجود ہے، ہم نے نیتن یاہو کی سستی کاپی کو جنگ، سفارتکاری، بیانیہ کے میدان میں ہرایا، ہم جس جس ملک میں گئے پاکستان کا بیانیہ پیش کیا، ہم جہاں جہاں گئے پیچھے پیچھے نیتن یاہو کی سستی کاپی کے بھی نمائندے پہنچے، اللہ تعالی نے پاکستان کو فوجی اور سفارتی سطح پر کامیابی عطا کی۔سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے مسئلہ کشمیر پر اپنا واضح موقف پیش کیا