جنگ روک دی جائے، لوگ مزید تباہی کے متحمل نہیں ہوسکتے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

امریکی حملے کا جواب دینے کے وقت اور نوعیت کا فیصلہ ایرانی افواج کرینگی،امریکہ نے نیتن یاہو کیلئے اپنی سکیورٹی خطرے میں ڈال دی : ایرانی  مندوب سعید ایراوانی  
 تنازع کے فریقین،خاص طور پر اسرائیل کو فوری جنگ بندی پرپہنچنا چاہیے، ایرانی  جو ہری مسئلے سے نمٹنے کیلئے سفارت کاری ختم نہیں ہوئی، اب بھی  پر امن حل کی امید  ہے:چینی مندوب 
نیو یارک(آئی این پی ) اقوام متحدہ  سیکرٹری جنرل  انتونیو گوتریس نے کہا ہے  جنگ روک دی جائے کیونکہ مشرق وسطی  خطے کے لوگ مزید تباہی کے متحمل نہیں ہوسکتے،سفارت کاری کو موقع دیں، شہریوں کی حفاظت کریں اور تمام مسائل کا حل بات چیت میں مضمر ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے    ایران کی صورتحال پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل  کے  ہنگامی اجلاس  سے خطاب میں کیا ۔  انتونیو گوتریس نے کہا کہ جوہری پروگرام پرسنجیدہ، مستقل مذاکرات کیے جائیں اور جنگ روک دی جائے، خطے کے لوگ مزید تباہی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ قابل بھروسہ، جامع اور قابل تصدیق حل کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ پرامن حل کے لییکسی بھی کوشش کی حمایت کیلیے تیارہے۔ انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ سفارت کاری کو موقع دیں، شہریوں کی حفاظت کریں اور تمام مسائل کا حل بات چیت میں مضمر ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے   سلامتی کونسل میں ایران کے مندوب سعید ایراوانی نے   امریکا کے تمام الزامات بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ الزامات کی قانون حیثیت نہیں بلکہ سیاسی محرکات ہیں، ان کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔   ایران پر امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ سعید ایراوانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران پرامریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا لیکن  امریکی حملے کا جواب دینے کے وقت اور نوعیت کا فیصلہ ایرانی افواج کریں گی۔انہوں نے کہا کہ  ایران پر امریکا کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، امریکا کے الزامات کے سیاسی محرکات ہیں  ان کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  امریکی مندوب   کہا کہ دنیا بالخصوص مشرق وسطی میں عدم استحکام کی جڑ کو سبق سکھایا، ایران پر حملے کرکے اپنے اتحادی اسرائیل کی مدد کی۔ ایران نے سفارتکاری کی کوششوں کو دیوار سے لگایا، حملوں کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو روکنا تھا۔چینی مندوب برائے اقوام متحدہ نے کہاکہ تنازع کے فریقین،خاص طور پر اسرائیل کو فوری جنگ بندی پرپہنچنا چاہیے، ایران کیجوہری مسئلے سے نمٹنے کے لیے سفارت کاری ختم نہیں ہوئی، اب بھی تنازع کے پر امن حل کی امید ہے۔روس کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے مستقل رکن ریاست کا ایسا اقدام انتہائی تشویشناک ہے، ایران پر حملوں سے مشرق وسطی میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہوگیا، جوہری تنصیبات پر حملے سے دنیا بھر کا عدم پھیلا کا نظام شدید متاثر ہوا، آئی اے ای اے قیادت غیر جانبدار اور واضح مقف اپنائے