چلاس کا تھک نالہ: سیاح گاڑیوں میں کیوں پھنسے رہے؟ سنگین غفلت یا حادثہ؟

چلاس کا تھک نالہ: سیاح گاڑیوں میں کیوں پھنسے رہے؟ سنگین غفلت یا حادثہ؟

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے علاقے تھک نالہ میں اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے درجنوں سیاحوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، عینی شاہدین کے مطابق جائے وقوعہ پر 14 سے 15 گاڑیاں کھڑی تھیں جنہیں بروقت الرٹ کے باوجود نکالا نہ جا سکا، اور کچھ سیاح خطرہ بھانپنے کے باوجود گاڑیوں میں بیٹھے رہے۔

 مقامی افراد اور چشم دید گواہوں نے بتایا کہ سیلاب اچانک نالے میں آیا۔ مقامی لوگوں نے بلند آواز میں وارننگ دی لیکن سیاحوں میں سے بعض نے ان وارننگز کو نظر انداز کر دیا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ "پہلے پتھر گاڑی پر گرے، پھر لوگ بھاگنا شروع ہوئے، کچھ لوگ ویڈیوز بناتے رہے، جس سے قیمتی وقت ضائع ہوا۔"مقامی ذرائع کے مطابق سیلابی ریلہ اس قدر شدید تھا کہ نہ صرف کئی گاڑیاں دھنسی بلکہ متعدد افراد بھی اس کی زد میں آ گئے۔ بجلی کے پول اور بڑی تعداد میں گاڑیاں اب بھی تھک نالے کے قریب دھنسی ہوئی ہیں۔ مقامی افراد، ریسکیو اہلکاروں اور رضاکاروں کی مدد سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔حادثے کا شکار ہونے والی ایک کوسٹر میں بچوں کے واکر، کھانے پینے کا سامان اور پانی کی بوتلیں موجود تھیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ متاثرین میں خاندان اور چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔

علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم سڑک بہہ گئی ہے جس کی وجہ سے آمد و رفت معطل ہو گئی ہے، اور سیاحوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ پہاڑی تودوں کی زد میں آ کر کچھ سرکاری گاڑیاں بھی پھنس گئی ہیں، جبکہ محفوظ رہنے والی کچھ گاڑیاں قریبی ہوٹل کی پارکنگ میں کھڑی ہیں۔انتظامیہ نے سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ موسم کی خرابی اور ممکنہ مزید بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں کا سفر مؤخر کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی ریسکیو سروس سے فوری رابطہ کریں۔