حکومت کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں:شوکت یوسفزئی

حکومت کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں:شوکت یوسفزئی

پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے خاتمے کی ذمے داری حکومت پر ہے کیونکہ حکومتی رویہ غیر سنجیدہ تھا اور انہوں نے مذاکرات کو صرف ایک سیاسی کھیل سمجھا۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ تحریک انصاف نے مذاکرات کسی دباؤ یا خوف کے تحت نہیں بلکہ ملک کے مفاد میں کیے تھے۔انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہو تو وہ جلد از جلد جوڈیشل کمیشن کا اعلان کرے، جس سے مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر ملک کی بہتری کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے پی ٹی آئی کے مطالبات کو تسلیم کرنا چاہیے۔شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ حکومت تحریک انصاف کو ملک دشمن اور وزرا کو انتہاپسند قرار دے رہے ہیں، جس کے باعث مذاکرات کا ماحول نہیں بن سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے تکبر اور رعونت کی بنا پر مذاکرات کو برباد کر دیا ہے۔

انہوں نے حکومت کی معیشت کے حوالے سے دعوؤں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ دو سال میں 27 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا گیا، اور اب مزید ایک ارب ڈالر کا قرضہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صرف قرضوں پر ملک چلانا چاہتی ہے اور ان قرضوں کا بوجھ عوام پر پڑے گا۔شوکت یوسفزئی نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے اور وہ ملک کو اس تباہی سے بچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف آج بھی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور اگر حکومت نے درست فیصلے نہ کیے تو عوام دوبارہ سڑکوں پر نکلیں گے۔