پی ٹی آئی دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتی، اس جنگ میں فوج کے ساتھ ہیں: شوکت یوسفزئی

پی ٹی آئی دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتی، اس جنگ میں فوج کے ساتھ ہیں: شوکت یوسفزئی

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور خیبرپختونخوا کے سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتی بلکہ اس کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر اقدامات کرنے کے بجائے پی ٹی آئی کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کی حمایت کی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کے بجائے تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔ ان کا سوال تھا کہ حکومت کا اصل مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے یا تحریک انصاف کو سیاسی طور پر ختم کرنا؟

پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں پر تحفظات
شوکت یوسفزئی نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور اس دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے ان اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر اقدامات کیے جانے چاہییں۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا ہے اور ان کی جماعت نے دہشت گردی کی مخالفت کا مؤقف برقرار رکھا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی حمایت کرنا تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے۔

پولیس کے بجٹ سے متعلق مؤقف
سابق صوبائی وزیر نے خیبرپختونخوا میں پولیس کے لیے فنڈز مختص نہ کیے جانے سے متعلق الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنے بجٹ کا 2 فیصد پولیس پر خرچ کیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مناسب وسائل فراہم کرنا ضروری ہے۔ تاہم بجٹ سے متعلق ان کے بیان کی تفصیلات، مالی سال اور اخراجات کی مدات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔

ایمرجنسی کے نام پر پوری جماعت کو موردِ الزام نہ ٹھہرایا جائے: شوکت یوسفزئی
شوکت یوسفزئی نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کسی بھی صورت دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی نافذ کرکے پوری جماعت پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام عائد کرنا درست نہیں۔پی ٹی آئی رہنما کے بیان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ حکومتی رویے کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان کے الزامات پر حکومت یا متعلقہ حکام کا مؤقف فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں، اس لیے ان دعوؤں کی مکمل جانچ کے لیے دوسرے فریق کا مؤقف بھی سامنے آنا ضروری ہے۔شوکت یوسفزئی کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھا جائے اور ان کی جماعت کے مطابق پی ٹی آئی کو دہشت گردی کی حمایت کرنے والی جماعت قرار دینے کے بجائے اس کے مؤقف اور اقدامات کو شواہد کی بنیاد پر پرکھا جائے۔