اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے کہا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے کہ نو کمیشن نو مذاکرات۔پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران عمر ایوب نے کہا کہ حکومتی کمیٹی کو بتایا تھا 7 دنوں میں کمیشن بنایا جائے لیکن بانی پی ٹی آئی نے آج خود ہی کہہ دیا مذاکرات نہیں ہوں گے اور ہم اس پر من و عن عمل کریں گے۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ کل صاحبزادہ حامد رضا کو روکنے کے لیے پولیس بھی گئی۔ڈیجیٹل نیشن بل سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہمارا پارلیمنٹ کے فلور پر احتجاج مسلسل جاری ہے، پاکستان ڈیجیٹل بل قائمہ کمیٹی میں پیش ہوا جس کی پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے مخالفت کی تھی لیکن کہیں سے ڈنڈا آیا تو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے سپورٹ میں ووٹ دیا، ہمارے 6 ممبران نے بل کی مخالفت کی۔عمر ایوب نے کہا کہ نادرا میں نان سویلین لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور انہوں نے میڈیا کنٹرول کے لیے پوری پلاننگ کی ہے، انہوں نے میڈیا پرسن کا ڈیٹا جمع کرنا ہے۔ انکا مقصد پستول سے پاکستان کی آزادی پر فائرنگ کرنا ہے۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ہمارے نوٹ کا بھی انہوں نے انتظار نہیں کیا، بل کو آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے اور یہ پیکا قوانین میں ترمیم کروا رہے ہیں۔ میڈیا فاشسٹ حکومت کے کنٹرول میں ہے۔عمر ایوب نے کہا کہ میں نے اسپیکر کو خط لکھا ہے کہ نیا چیف الیکشن کمشنر آنا چاہیے۔ شہباز شریف کو وزیراعظم نہیں مانتے۔ ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام پارٹیوں سے رابطہ کریں گے۔