پاکستان میں داعش کی موجودگی یا حمایت کے الزامات محض پروپیگنڈا : دفتر خارجہ

امریکا کی نئی انتظامیہ کیساتھ مثبت تعلقات کے خواہاں، امریکی پالیسی میں تبدیلی کی کوئی اطلاع نہیں،پاک بھارت تجارت پیچیدہ معاملہ ،مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کی واضح پوزیشن 

 پاکستان غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا خیرمقدم کرتا ہے، اسرائیل کو اس کے جنگی جرائم پر جوابدہ ٹھہرایا جائے، ترجمان شفقت علی خان کی ہفتہ وار بریفنگ
 اسلام آباد (آئی این پی )پاکستان نے داعش کے حوالے سے افغانستان کے الزامات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان داعش کی معاونت نہیں کررہا، پاکستان میں داعش کے کیمپس کی تردید کرتے ہیں، امریکا کی نئی انتظامیہ کے ساتھ مثبت تعلقات کے خواہاں ہیں، پاکستان کے پاس امریکی پالیسی میں تبدیلی کی کوئی اطلاع نہیں۔ان خیالات کااظہار ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کی جانب سے پاکستان پر داعش کو سپورٹ کرنے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان داعش کی معاونت نہیں کررہا، پاکستان میں داعش کے کیمپس کی تردید کرتے ہیں۔ پاکستان میں داعش کی موجودگی یا حمایت کے الزامات محض پروپیگنڈا ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان انتظامیہ پر ٹی ٹی پی کے دہشت گرد کیمپوں کے خاتمے کے لیے زور ڈالتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں شفقت علی خان نے واضح کیا کہ وزیر داخلہ کا دورہ واشنگٹن وزارت خارجہ کے توسط سے نہیں تھا، امریکی صدر کے حلف برداری کے موقع پر پاکستانی سفیر نے نمائندگی کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی ملک کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ بتائے کہ پاکستان کے کسی ملک سے کیسے تعلقات ہوں گے، اسی طرح ہم بھی کسی ملک کے دیگر ممالک سے تعلقات پر تبصرہ نہیں کرتے۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا میں نئی انتظامیہ کا خیرمقدم کرتا ہے، پاکستان اور امریکا کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، پاکستان امریکا کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان افغان شہریوں کی امریکا میں 2025 تک آباد کاری کے لیے ارینجمنٹ برقرار ہے، پاکستان افغان شہریوں کی امریکا یا کسی تیسرے ملک میں آباد کاری کے عمل میں تیزی کا خواہاں ہے، امریکا نے ستمبر 2025 تک افغان شہریوں کی آبادکاری کا وعدہ کر رکھا ہے، پاکستان کے پاس امریکی پالیسی میں تبدیلی کی کوئی اطلاع نہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ہتھیاروں کا معاملہ کابل اور واشنگٹن کے درمیان ہے، صدر ٹرمپ کی طرف سے ہتھیار واپس لینے کے معاملے پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا پاکستان میں موجود جن افغان مہاجرین نے امریکا جانا ہے اس حوالے سے پرانی پالیسی پر ہی عمل درآمد کررہے ہیں، ابھی اس حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، افغان مہاجرین کا تیسرے ملک جانے کا معاملہ سست روی کا شکار ہے ، چاہتے ہیں کہ افغان باشندے جلد از جلد تیسرے ملک منتقل ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی تقریب حلف برداری میں ماضی کی طرح پاکستانی سفیر نے ہی پاکستان کی نمائندگی کی، ون چائنہ پالیسی کی حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، پاکستان کی ون چائنہ پالیسی کی حمایت غیر متزلزل اور بالکل واضح ہے۔ شفقت علی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی ٹرمپ حلف برداری میں شرکت پر ترجمان وزارت داخلہ سے بات کی جائے، امریکہ میں پاکستانی تارکین کا معاملہ دونوں ممالک میں ابھی تک زیر بحث نہیں آیا۔ انکا کہنا تھا کہ پاک بھارت تجارت پیچیدہ معاملہ ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کا معاملہ تکلیف دہ اور انسانی نوعیت کا ہے، پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ انسانی معاملات جلد حل کیے جائیں، پاکستان بھارت کے ساتھ قیدیوں کا معاملہ جلد حل کرنے کے لئے ہر طرح سے تیار ہے۔شفقت علی نے مزید کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر پر پاکستان کی واضح پوزیشن ہے، پاکستان مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی ہر کوشش کا خیر مقدم کرے گا۔ ترجمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات کا فورم ہے، پاکستان اس معاہدے پر پوری طرح کاربند ہے، امید ہے بھارت بھی اس معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بناے گا، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان برکس میں شمولیت کا خواہاں ہے۔ برکس میں شمولیت کے لئے پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں، پاکستان برکس میں شمولیت کے لئے اپنی درخواست پر قائم ہے۔انہوں نے بتایا کہ مراکش میں پچھلے ہفتے کشتی کا المناک حادثہ پیش آیا، خوش قسمتی سے اس حادثے میں 25 پاکستانی محفوظ رہے جن کی فہرست شئیر کی گئی ہے، واقعے کی مزید نگرانی کی جا رہی ہے، مراکشی حکام نے تمام تر معاملات میں بھرپور تعاون کیا۔ پاکستان بہترین تعاون اور اعانت کی فراہمی پر مراکش کا مشکور ہے۔شفقت علی نے کہا کہ پاکستان غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا خیرمقدم کرتا ہے، اسرائیل کو اس کے جنگی جرائم پر جوابدہ ٹھہرایا جایا، مغربی کنارے کے شہر جنین میں اسرائیلی حملہ قابل مذمت ہے، عالمی ادارے کی قراردادوں کی روشنی میں غزہ کی تعمیر نو کے لئے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان غزہ کو دوبارہ قابل رہائش بنانے کا خواہاں ہے،ہم حال ہی میں اسرائیلی فوج کی جانب سے سیز فائر کے دوران دوبارہ حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ شام مسلم دنیا کا ایک اہم حصہ ہے،ہم وہاں تبدیلیوں کو دیکھ رہے ہیں ، ہم وہاں امن کی واپسی کے خواہاں ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے وزراتی کمیشن کا اجلاس ہورہا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایڈیشنل خارجہ سیکریٹری افریقی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں، پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان سیاسی مشاورت کا دورہ کامیاب رہا، تاہم پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان سیاسی مشاورت کا دور اسلام آباد میں ہو رہا ہے ایک سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہاملک ریاض کی دوبئی سے بے دخلی ممکن ہے یا نہیں، تفصیلات لے کر بتا سکتا ہوں۔