لاہور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 22 مارچ کو مینارِ پاکستان پر جلسہ کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، تاہم عدالت نے فوری ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔
عدالت کا مؤقف:
عدالت نے پی ٹی آئی کی درخواست پر رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔رجسٹرار آفس کے مطابق درخواست گزار کو پہلے متعلقہ داد رسی کمیٹی سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔جسٹس فاروق حیدر نے اعتراض برقرار رکھتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔
سماعت کی تفصیلات:
سماعت جسٹس فاروق حیدر نے کی، جبکہ پی ٹی آئی کے وکیل سردار خرم لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے۔پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل فرخ خان لودھی نے عدالت میں مؤقف پیش کیا۔جسٹس فاروق حیدر نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا:"رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا ہے کہ آپ نے داد رسی کمیٹی سے رجوع نہیں کیا، آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟"خرم لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ وہ رجسٹرار آفس کے اعتراض پر بحث کرنا چاہتے ہیں اور ان کا کمیٹی پر اعتماد نہیں۔وکیل نے مؤقف اپنایا کہ عدالت ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کو ہدایت دے کہ وہ ایک ہفتے میں فیصلہ کرے۔
پنجاب حکومت کا مؤقف:
فرخ لودھی نے کہا کہ دادرسی کمیشن قانون کے مطابق دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا پابند ہے، لہٰذا پی ٹی آئی کو ڈی سی آفس سے رجوع کرنا چاہیے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیے کہ بہتر یہی ہے کہ پی ٹی آئی پہلے متعلقہ فورم سے رجوع کرے اور اگر وہاں سے ریلیف نہ ملے تو عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
فیصلہ:
عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست نمٹا دی، جس کے بعد پی ٹی آئی کو پہلے داد رسی کمیٹی سے رجوع کرنا پڑے گا۔