آٹومیٹک رین گیج منصوبہ کاغذی کارروائی تک محدود

 شہری علاقوں میں نکاسی آب، فلڈ الرٹس اور ہنگامی حکمتِ عملی متاثر 
 لاہور (خصوصی رپورٹ ) پنجاب حکومت نے مون سون کے دوران بروقت، درست اور قابلِ اعتماد بارش ڈیٹا کے حصول کے لیے آٹومیٹک رین گیج منصوبہ متعارف کروایا تھا۔ اس حوالے سے اعلان کیا گیا کہ صوبے بھر میں واسا کے تمام ادارے خودکار رین گیج نصب کریں گے تاکہ بارش کی مقدار، شدت اور دورانیے کا درست ریکارڈ حاصل کیا جا سکے۔جولائی 2025 میں سیکرٹری ہاو سنگ نورالامین مینگل کی جانب سے واضح ہدایت جاری کی گئی کہ سات دن کے اندر آٹومیٹک رین گیج کی تنصیب مکمل کی جائے۔ مراسلے بھی لکھے گئے اور احکامات بھی جاری ہوئے، تاہم عملی پیشرفت کہیں نظر نہ آ سکی۔لاہور واسا میں محض دو تین مقامات پر پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا، جس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔ نہ تو پائلٹ پراجیکٹ کو وسعت دی گئی اور نہ ہی دیگر شہروں میں کسی قسم کی تنصیب عمل میں لائی گئی۔ پنجاب بھر کے واسا اداروں نے آٹومیٹک رین گیج منصوبے سے عملاً ہاتھ کھینچ لیا۔مینوئل رین مینجمنٹ سسٹم ختم کرنے کے دعوے کیے گئے، مگر عملی طور پر وہی پرانا، غیر مو ثر اور دستی نظام بحال رہا۔ بارش کے دوران درست ڈیٹا دستیاب نہ ہونے کے باعث شہری علاقوں میں نکاسی آب، فلڈ الرٹس اور ہنگامی حکمتِ عملی بری طرح متاثر ہوئی۔ جس جدید نظام کو فیصلہ سازی کی بنیاد بننا تھا، وہ مون سون کے ساتھ ہی نظر انداز کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق مون سون ختم ہوتے ہی متعلقہ اداروں کی دلچسپی بھی ختم ہو گئی۔ نہ مزید فنڈز جاری ہوئے، نہ کوئی ٹائم لائن دی گئی اور نہ ہی منصوبے کی پیشرفت سے متعلق کوئی بریفنگ سامنے آئی۔یہ صورتحال وزیراعلیٰ پنجاب کے جدید، ڈیجیٹل اور ڈیٹا بیسڈ گورننس کے وڑن کے بالکل برعکس ہے۔ ایک طرف جدید ٹیکنالوجی اپنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بنیادی منصوبے بھی تعطل کا شکار ہیں۔