اسرائیل نے حماس کے سربراہ اسمٰعیل ہنیہ کی شہادت کا اعتراف کر لیا

اسرائیل نے حماس کے سربراہ اسمٰعیل ہنیہ کی شہادت کا اعتراف کر لیا

اسرائیلی وزیر دفاع یواو کاٹز نے پہلی بار حماس کے سابق سربراہ اسمٰعیل ہنیہ کی شہادت کا اعتراف کیا ہے، جو رواں سال کے اوائل میں تہران میں ایک حملے کے دوران شہید ہوئے تھے۔

وزیر دفاع کا بیان:
کاٹز نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے تہران میں اسمٰعیل ہنیہ پر حملہ کیا تھا اور ان کی شہادت کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل یمن میں حوثیوں پر بھی سخت حملے کرے گا اور ان کی قیادت کا سر قلم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کاٹز نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کارروائیاں اسی طرح کی ہوں گی جیسے اسرائیل نے غزہ، لبنان اور تہران میں اسمٰعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار اور حسن نصراللہ کے ساتھ کی تھیں۔

اسمٰعیل ہنیہ کی شہادت:
31 جولائی 2024 کو اسمٰعیل ہنیہ پر تہران میں ان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا تھا، جس کے دوران وہ ایران کے نئے صدر مسعود پزشکیان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے ایران میں موجود تھے۔

اسرائیل کا مزید حملے کا عندیہ:
کاٹز نے یمن کے شہر الحدیدہ اور صنعا میں بھی اسرائیل کی طرف سے ایسی ہی کارروائیاں کرنے کی دھمکی دی، جس میں حوثی قیادت کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی۔اسرائیل کا یہ بیان مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حماس، حزب اللہ اور حوثیوں کے خلاف اسرائیلی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔